’ویزا ملے تو تماشائی بلالیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دھونی ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا سے سخت مقابلے کی توقع کر رہے ہیں۔ بھارت نے جمعرات کوسری لنکا کو آخری لیگ میچ میں چھ وکٹوں سے شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کرلی ہے اور اب دونوں ٹیمیں دوبارہ اتوار کو مدمقابل ہونے والی ہیں۔ میچ کے بعد پریس کانفرنس میں مہندر سنگھ دھونی نے پاکستانی ٹیم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کونسی ٹیم فائنل میں نہیں ہے۔ ہر ٹیم کے لئے فائنل میں پہنچنے کا یکساں موقع تھا۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کی ٹیم مضبوط ہے اور انہیں ایک سخت مقابلے کی توقع ہے۔ بھارتی کپتان سے پوچھا گیا کہ کیا اس ٹورنامنٹ میں تین سو رنز کا سکور بھی محفوظ نہیں ہے تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا ’چار سو کا اسکور محفوظ رہےگا۔‘ دھونی نے کہا کہ جب درمیانے اوورز میں وکٹ گریں تو تین سو دس سے تین سو بارہ تک کا سکور بن پاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وکٹ میں بولرز کے لئے مشکلات ہیں اس لحاظ سے ان کے بولرز نے اچھی بولنگ کی ہے۔ انڈین ٹیم کے کپتان نے کہا کہ ان کے اوپنرز ٹیم کو اچھا سٹارٹ دے رہے ہیں اور اگر ایسا سٹارٹ مل جائے تو مڈل آرڈر بیٹنگ کو بہت مدد مل جاتی ہے اور ایسے سٹارٹ کی توقع پر وہ ہر میچ میں ہدف عبور کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔ دھونی نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ میں بیٹسمینوں کے لیے زیادہ ذمہ داریاں ہیں کیونکہ وکٹ سے بولرز کو مدد نہیں مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے جب تین سو رنز بنتے تھے تو اس ہدف کو پورا کرنے کے لئے جب کوئی ٹیم میدان میں اترتی تھی تو بیٹسمین پریشان اور حواس باختہ نظر آتے تھے لیکن اس ٹورنامنٹ میں بیٹسمین خود کو پرسکون محسوس کرتے ہیں۔ اس سوال پر کہ پاکستان کے نہ ہونے کے سبب فائنل میں تماشائی نہیں ہونگے؟ دھونی نے بذلہ سنجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت زیادہ کچھ نہیں کرسکتے البتہ اگر ’ویزا مل جائے تو بھارت سے تماشائی بلوالیں گے‘۔ | اسی بارے میں پول اے میں سری لنکا کی جیت25 June, 2008 | کھیل دھونی ایشیا کپ شیڈول سے ناخوش28 June, 2008 | کھیل کراچی: رائنا کی سنچری، بھارت فاتح28 June, 2008 | کھیل مرلی کی نظر پانچ سو وکٹوں پر28 June, 2008 | کھیل عمرگل ایشیا کپ سے باہر27 June, 2008 | کھیل ان فٹ عمرگل کی جگہ عبدالرؤف28 June, 2008 | کھیل ماجد خان کی پی سی بی پر تنقید28 June, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||