BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 June, 2008, 13:49 GMT 18:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب پر پابندی کی مدت میں کمی

پابندی عائد کیے جانے کے بعد شعیب کےمداحوں کا مظاہرہ
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹربیونل نے تیز گیند باز شعیب اختر پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی وجہ سے عائد پانچ سالہ پابندی کی مدت گھٹا کر اٹھارہ ماہ کر دی گئی ہے۔

تاہم ٹربیونل نے شعیب کو پابندی کے علاوہ ستر لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا ہے۔

ایپلٹ ٹربیونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ آفتاب فرخ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک بار شعیب اختر پر چونتیس لاکھ کا جرمانہ کیا تھا جس نے ان پر کوئی خاص اثر نہیں کیا اس لیے شعیب اختر پر انہوں نے ستر لاکھ کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

سزا کی مدت کم کرنے کی بابت ٹربیونل کے سربراہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر پانچ سال کی پابندی کی سزا کو زیادہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے شعیب اختر کے ڈاکٹر سے دریافت کیا تھا کہ ان کی کتنی کرکٹ باقی ہے اور انہیں معلوم ہوا کہ تین سال۔

شعیب تنازعات سے دور نہیں رہتے

’اس لیے میں نے ان کو ڈیڑھ سال کھیلنے کے لیے دے دیے جبکہ ان کو ٹربیونل نے آئی پی ایل سے تین کروڑ کمانے میں مدد کی اب اس میں سے ستر لاکھ وہ کرکٹ بورڈ کو دے دیں‘۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر کو اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں جانے کا پورا حق ہے۔

اس فیصلے پر ٹریبیونل کے دو رکن اس کے سربراہ خود اور سابق کرکٹر حسیب احسن کی رائے ایک تھی جبکہ تیسرے رکن نوید چوہدری، جو سلمان تاثیر کے گورنر بننے کے بعد ٹربیونل میں شامل ہوئے، ان کی رائے مختلف تھی۔

نوید چوہدری کا کہنا تھا کہ شعیب اختر پر پابندی مکمل طور پر ختم کر دینی چاہیے جبکہ ان پر دو کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کرنا چاہیے کیونکہ پابندی کی سزا تو ان شائقین کرکٹ کے لیے بھی ایک سزا ہو گی جو شعیب اختر کو ملک کے لیے کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفضل حسین نے کہا کہ وہ اس فیصلے پر مطمئن ہیں کیونکہ ڈسپلنری کمیٹی کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا اور شعیب اختر کی معافی کے سبب انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے۔

شعیب اختر کے وکیل عابد حسن منٹونے کہا کہ وہ فیصلے پر خوش نہیں تاہم اس کے خلاف ہائی کورٹ میں جانے پر غور وہ فیصلے کو تفصیلی طور پر پڑھنے کے بعد کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد