شعیب پر پابندی کی مدت میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ٹربیونل نے تیز گیند باز شعیب اختر پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی وجہ سے عائد پانچ سالہ پابندی کی مدت گھٹا کر اٹھارہ ماہ کر دی گئی ہے۔ تاہم ٹربیونل نے شعیب کو پابندی کے علاوہ ستر لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا ہے۔ ایپلٹ ٹربیونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ آفتاب فرخ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک بار شعیب اختر پر چونتیس لاکھ کا جرمانہ کیا تھا جس نے ان پر کوئی خاص اثر نہیں کیا اس لیے شعیب اختر پر انہوں نے ستر لاکھ کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ سزا کی مدت کم کرنے کی بابت ٹربیونل کے سربراہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر پانچ سال کی پابندی کی سزا کو زیادہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے شعیب اختر کے ڈاکٹر سے دریافت کیا تھا کہ ان کی کتنی کرکٹ باقی ہے اور انہیں معلوم ہوا کہ تین سال۔
’اس لیے میں نے ان کو ڈیڑھ سال کھیلنے کے لیے دے دیے جبکہ ان کو ٹربیونل نے آئی پی ایل سے تین کروڑ کمانے میں مدد کی اب اس میں سے ستر لاکھ وہ کرکٹ بورڈ کو دے دیں‘۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر کو اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں جانے کا پورا حق ہے۔ اس فیصلے پر ٹریبیونل کے دو رکن اس کے سربراہ خود اور سابق کرکٹر حسیب احسن کی رائے ایک تھی جبکہ تیسرے رکن نوید چوہدری، جو سلمان تاثیر کے گورنر بننے کے بعد ٹربیونل میں شامل ہوئے، ان کی رائے مختلف تھی۔ نوید چوہدری کا کہنا تھا کہ شعیب اختر پر پابندی مکمل طور پر ختم کر دینی چاہیے جبکہ ان پر دو کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کرنا چاہیے کیونکہ پابندی کی سزا تو ان شائقین کرکٹ کے لیے بھی ایک سزا ہو گی جو شعیب اختر کو ملک کے لیے کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفضل حسین نے کہا کہ وہ اس فیصلے پر مطمئن ہیں کیونکہ ڈسپلنری کمیٹی کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا اور شعیب اختر کی معافی کے سبب انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے۔ شعیب اختر کے وکیل عابد حسن منٹونے کہا کہ وہ فیصلے پر خوش نہیں تاہم اس کے خلاف ہائی کورٹ میں جانے پر غور وہ فیصلے کو تفصیلی طور پر پڑھنے کے بعد کریں گے۔ | اسی بارے میں ’بورڈ نے شعیب کو ولن ہی سمجھا‘01 April, 2008 | کھیل پابندی کے خلاف شعیب کی اپیل04 April, 2008 | کھیل شعیب کو 20 کروڑ ہرجانے کے نوٹس03 April, 2008 | کھیل ’بورڈ اور چئرمین کا احترام کرتا ہوں‘04 April, 2008 | کھیل کھیلنے پر پابندی، شعیب کی اپیل03 May, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||