BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 May, 2008, 15:47 GMT 20:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اب بیٹنگ پر توجہ دوں گا: آفریدی

شاہد آفریدی
شاہد آفریدی آئی پی ایل میں نو اننگز میں صرف چھ چھکوں کی مدد سے اکیاسی رنز بناسکے
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ سنجیدگی سے اپنی بیٹنگ پر دوبارہ توجہ دے کر شائقین کی توقعات پر پورا اترنا چاہتے ہیں۔

آئی پی ایل میں حیدرآباد دکن کی نمائندگی کرتے ہوئے شاہد آفریدی نو اننگز میں صرف چھ چھکوں کی مدد سے اکیاسی رنز بناسکے جس میں کوئی بھی نصف سنچری شامل نہیں تھی۔ بولنگ میں انہوں نے نو وکٹیں حاصل کیں۔

بھارت سے وطن واپسی پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ انہیں اس بات کا احساس ہے کہ وہ بیٹنگ میں شائقین کی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم میں کھیلتے ہوئے انہیں چھٹے ساتویں نمبر پر بیٹنگ میں زیادہ اوورز نہیں ملتے لہٰذا ان کی زیادہ توجہ بولنگ پر رہی اور اس میں ان کی کارکردگی اچھی بھی رہی۔

آئی پی ایل میں حیدرآباد دکن کی نمائندگی کرتے ہوئے شاہد آفریدی نو اننگز میں صرف چھ چھکوں کی مدد سے اکیاسی رنز بناسکے جس میں کوئی بھی نصف سنچری شامل نہیں تھی۔

لیکن اب وہ سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ بیٹنگ پر بھرپور توجہ دیں اور شائقین کو اپنی بیٹنگ کی پرانی جھلک دکھائیں۔

ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں سینتیس گیندوں پر تیز ترین سنچری کے عالمی ریکارڈ ہولڈر شاہد آفریدی اب تک دو سو اٹھاون ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں دو سو سینتالیس چھکے لگاچکے ہیں جو سنتھ جے سوریا کےچار سو گیارہ میچوں میں لگائے گئےدو سو اننچاس چھکوں کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ بیٹنگ میں اچھی کارکردگی نہ دکھانے پر مایوس یا پریشان نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے اعتماد میں کمی آئی ہے بلکہ نیٹ پریکٹس میں معمول سے زیادہ بیٹنگ کرنے کے بعد انہیں یقین ہے کہ وہ دوبارہ اچھی بیٹنگ کرنے لگیں گے۔

شاہد آفریدی نے آئی پی ایل کو اچھا تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ٹورنامنٹ کی کامیابی کا اندازہ شائقین کی دلچسپی سے لگایا جاسکتا ہے۔ آئی پی ایل کے ہر میچ میں شائقین کا جوش وخروش زبردست رہا اور اگر ان کی پرفارمنس اچھی رہتی تو زیادہ مزا آتا۔

شاہد آفریدی کے خیال میں بھارت میں چونکہ کرکٹ کو مذہب کی طرح دیکھا جاتا ہے اس لیے وہاں جس طرز کی کرکٹ بھی کرائی جائے گی وہ کامیاب رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ اس دور کی کرکٹ ہے لیکن ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ آنے والے برسوں میں ٹیسٹ کرکٹ کچھ کم ہوجائے ۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ ان ملکوں میں زیادہ ہونی چاہیے جہاں کرکٹ نے ابھی قدم نہیں جمائے ہیں یا جہاں لوگ اسے زیادہ جانتے نہیں ہیں۔‘

شاہد آفریدی نے تسلیم کیا کہ آئی پی ایل میں ہر ٹیم میں چونکہ مختلف ملکوں کے کھلاڑی ہیں لہٰذا ذہنی ہم آہنگی کا فقدان رہا اور کامبینیشن بنانے میں مشکل رہی جس سے ٹیم کی کارکردگی بھی متاثر رہی حالانکہ پروفیشنل کرکٹرز ہونے کی وجہ سے حالات سے جلداز جلد ایڈجسٹ کرنا چاہیے تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد