ڈیرل ہیئر کی واپسی پندرہ مئی سے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرل ہیئر اگست 2006 میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اوول کے میدان میں ہونے تنازعے کے بعد پندرہ مئی سے دوبارہ ٹیسٹ میچوں کی ایمپائرنگ شروع کر رہے ہیں۔ آئی سی سی کے مطابق ڈیرل ہیئر انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کےدرمیان کھیلے جانی والی ٹیسٹ سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ایک مرتبہ پھر ایمپائرنگ کریں گے۔ ڈیرل ہیئر نےاوول ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم پر بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کیا تھا جو ثابت نہ ہوسکا۔ آئی سی سی نے چیف میچ ریفری رنجن مدوگلے کے ذریعے اس واقعے کی تحقیقات کی تھی جنہوں نے پاکستانی کپتان انضمام الحق کو کھیل کی ساکھ متاثر کرنے پر چار ون ڈے میچز کی پابندی سنائی تھی۔ تاہم آئی سی سی نے ڈیرل ہیئر کو امپائرز کےایلیٹ پینل سے باہر کر دیا تھا اور انہیں صرف ایسوسی ایٹ ممالک کے میچز سپروائز کرنے کی اجازت تھی۔ ڈیرل ہیئر کے بارے میں آئی سی سی نے یہ کہا تھا کہ وہ بین الاقوامی میچز میں امپائرنگ کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ ٹیسٹ میچوں میں ہٹائے جانے کے بعد ڈیرل ہیئر نے آئی سی سی کے خلاف مبینہ نسلی تعصب کے الزام کے عدالتی چارہ جوئی شروع کرنے کی دھمکی دی لیکن بعد میں عدالتی چارہ جوئی کی دھمکی واپس لے لی تھی۔ ڈیرل ہیئر نے آئی سی سی کے بحالی کے ایک پروگرام میں شرکت کی اور پھر ان کو دوبارہ ٹیسٹ میچوں کی ایمپائرنگ پر تعینات کر دیا گیا۔ | اسی بارے میں ہیئر نے تعصب کا دعویٰ واپس لے لیا10 October, 2007 | کھیل ہیئر کی خبر اخبارات میں نمایاں19 March, 2008 | کھیل ڈیرل ہیئر بحال اورانضمام حیران19 March, 2008 | کھیل ’ہیئر فارغ، کرکٹ کی فتح‘06 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||