اولمپک مشعل کا شانداراستقبال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین میں اولمپک گیمز کے میزبان شہر بیجنگ، میں اولمپک مشعل کے خیرمقدم کے لیے ایک پرتعیش تقریب منعقد کی گئی ۔ چین کے صدر ہوجنتاؤ نے تیانامن سکوائر سے براہ راست دکھائی جانے والی اس تقریب میں شرکت کی اور مشعل کو اونچائی پر پکڑتے ہوئے نامور چینی کھلاڑی لیوژانگ کے حوالے کیا۔ حکومت مخالف مظاہروں کے پیش نظر اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گیے تھے۔ یہ اقدامات اولمپیا میں تبت کے حامی افراد کے پولیس کا محاصرہ توڑ کر مشعل روشن کرنے کی تقریب میں خلل ڈالنے کی کوشش کے بعد کیے گئے ہیں۔ اس سے قبل جب مشعل سوموار کو یونان سے خصوصی طیارے کے ذریعے بیجنگ پہنچی توسکول کے سینکڑوں بچوں نے جھنڈے لہرا کر اس کا استقبال کیا۔جبکہ اس موقع پر بڑی تعداد میں طلبا اور کارکنان نےاولمپک کا ترانہ ’ون ورلڈ، ون ڈریم‘ گایا۔ جس کے بعد بڑی تقریب کے لیے مشعل کو سٹی سنٹر لے جایا گیا جہاں صدر ہوجنتاؤ نے کہا: ’میں بیجنگ اولمپک گیمز دو ہزار آٹھ کی مشعل کے سفر کا افتتاح کرتا ہوں، کےالفاظ کے ساتھ مشعل لیو ژانگ کے حوالے کی ۔ منگل کے روز یہ مشعل اپنے بیس ممالک پر مشتمل کے چکر کے اگلے پڑاؤ یعنی قازقستان کے دارالخلافہ الماتے پہنچے گی۔ اولمپک مشعل کے ایک سو تیس دنوں پر مشتمل یہ سب سے لمبی ریلی جس میں زیادہ افراد نے مشعل اٹھائی ،اوراس کا مقصد بظاہر یہ لگتا ہے کہ چین ان گیمز کو بہت اہمیت دے رہا ہے اور چینی حکام کو امید ہے کہ اس سے وہ دنیا کو باور کرا سکیں گے کہ چین بڑی تیزی سے اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے ابھر رہا ہے۔ دوسری طرف دہلی میں تبت کے جلا وطن شہریوں نے چین کے خلاف احتجاج میں ’آزاد مشعل‘ کا انعقاد کیا ہے جو کہ پوری دنیا کا چکر کاٹے گی۔ تاہم تبت میں حالیہ جھگڑوں کے بعد عالمی سطح پر اولمپکس کے بائیکاٹ کی مہم نہ ہونے کے برابر ہے۔ | اسی بارے میں اولمپک بائیکاٹ کی اپیل مسترد29 March, 2008 | کھیل اعصام اولمپکس میں شرکت کے خواہشمند29 March, 2008 | کھیل اولمپک مشعل: کڑے حفاظتی انتظام28 March, 2008 | کھیل اولمپک مشعل روشن کر دی گئی24 March, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||