BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 March, 2008, 16:36 GMT 21:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چئرمین کی غلط بیانی، بورڈ کی ساکھ کو دھچکا‘

جاوید میانداد
ایسے بیان سے بورڈ کی سبکی ہوئی ہے: جاوید میانداد
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ اور کپتان جاوید میاں داد کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقن کرکٹ بورڈ کی پاکستان کھیلنے پر آمادگی کے ضمن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف کی غلط بیانی سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی ساکھ کو دھچکا پہنچا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین نے جمعرات کو ذرائع ابلاغ کے کچھ نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم نے اکتوبر میں پاکستان میں ٹیسٹ میچ کھیلنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے جبکہ اسی روز پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت نغمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ایسی ایک تجویز جنوبی افریقن بورڈ کو دینا چاہتا ہے لیکن ابھی تک یہ تجویز باضابطہ طور پر جنوبی افریقن بورڈ کو نہیں دی تو ان کی آمادگی کیسے ہو سکتی ہے۔

اس پر ہفتے کو جنوبی افریقن بورڈ کی طرف سے یہ وضاحت آئی کہ انہیں پی سی بی کی جانب سے اکتوبر میں ٹیسٹ میچ کھیلنے کو کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی اور اگر ایسی کوئی تجویز موصول ہوتی بھی ہے تو ہمارے لیے اسے قبول کرنا ممکن نہیں کیونکہ ہمارا بین الاقوامی شیڈول اس کی اجازت نہیں دیتا۔

اس حوالے سے سابق سٹار بیٹسمین نے کہا کہ کسی ادارے کے سربراہ کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ عوام اور ذرائع ابلاغ سے جھوٹ بولیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف پاکستان میں کرکٹ کے شائقین میں ان کی بدنامی ہوئی ہے بلکہ بین الاقوامی کرکٹ میں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ پر حرف آیا اور بورڈ کی سبکی ہوئی۔

اس تمام صورتحال کو جاوید میاں داد نے احمقانہ قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ارباب اختیار اس قسم کی بات کی ہو بلکہ کئی مواقع پر پہلے بھی وہ ایسی غیر ذمہ دارانہ باتیں کرتے رہتے ہیں۔

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے پاکستان آنے سے انکار کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کی ٹیم کو ایک روزہ سیریز کے لیے آمادہ کر لیا ہے لیکن آسٹریلیا کے نہ آنے سے اس سال پاکستان کی ٹیم ٹیسٹ میچز سے محروم رہے گی اور پاکستان کرکٹ بورڈ اس کوشش میں ہے کہ پاکستان کے لیے تین ٹیسٹ میچز کی سیریز ممکن بنائی جا سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد