آسٹریلوی فیصلہ مایوس کن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کو ملتوی کرنے کے فیصلے پر پاکستانی کرکٹ حلقوں نے مایوسی ظاہر کی ہے اور خیال ظاہر کیا ہے کہ اگر اسی طرح دورے ملتوی یا منسوخ ہوتے رہے تو پاکستانی کرکٹ کے لئے یہ بڑا دھچکہ ہوگا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں امن و امان کی خراب صورتحال کی بنیاد پر آسٹریلیا نے اس ماہ کے آخر میں شروع ہونے والا دورۂ پاکستان ملتوی کردیا ہے۔ اس بارے میں کرکٹ آسٹریلیا کے جنرل منیجر پبلک افیئرز پیٹرینگ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ ان معلومات اور ہدایات کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو انہیں سکیورٹی کے بارے میں مختلف ذرائع سے ملی ہیں ان میں آسٹریلوی حکومت بھی شامل ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آسٹریلوی کوچ جیف لاسن کا کہنا ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا یہ دورہ ملتوی کرنے میں بالکل حق بجانب نہیں کیونکہ پاکستان میں کرکٹ دہشت گردی کا ہدف نہیں ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیز راجہ کے خیال میں اگر اسی طرح ٹیمیں پاکستان آنے سے کتراتی رہیں تو یہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستانی کرکٹ کے لئے بڑا دھچکہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اسی ماہ اپنے نشریاتی حقوق فروخت کرنے والا ہے لیکن ٹیموں کے یہاں نہ آنے کے سبب کوئی بھی براڈکاسٹر اچھی پیشکش کے ساتھ سامنے نہیں آئے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ عارف عباسی کے خیال میں یہ صورتحال آئی سی سی کی کمزوری ظاہر کرتی ہے کیونکہ آج کل کرکٹ پروگرامز آئی سی سی کے تحت طے ہوتے ہیں دو بورڈز طے نہیں کرتے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||