شین بانڈ سینٹرل کنٹریکٹ سے خارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی کرکٹ لیگ میں کھیلنے کی وجہ سے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نےفاسٹ بالر شین بانڈ کا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ نیوزی لینڈ کے تیز بالر نے بھارتی کرکٹ لیگ کے ساتھ معاہدہ یہ سمجھتے ہوئے کیا کہ یہ معاہدہ ان کے بین الاقوامی کیریئر اثر انداز نہیں ہوگا۔ لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قواعد و ضوابط کے مطابق کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدہ کرنے والے کھلاڑی کسی غیر توثیق شدہ ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے سکتے۔ بتیس سالہ بانڈ نے کہا ’مجھے فخر ہے کہ میں نے نیوزی لینڈ کی طرف سے کھیلا۔ میں سمجھا تھا کہ میں نیوزی لینڈ اور بھارتی کرکٹ لیگ سے بھی کھیل سکتا ہوں۔‘ بانڈ نے کوشش کی تھی کہ وہ مئی دو ہزار آٹھ تک نیوزی لینڈ کے لیے بھی کھیلیں اور بھارتی لیگ کے لیے بھی۔ بھارتی کرکٹ لیگ نے اس سال بہت سے ٹورنامنٹ رکھے ہیں۔ ’میں اس واقعہ کے بعد صحیح قدم اٹھانا چاہتا تھا اس لیے نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے کہنے پر میں نے استعفٰی دے دیا ہے۔ میں نیوزی لینڈ کے لیے کھیلنے کے لیے ہر وقت مہیا ہوں بشرطیکہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ مجھے موقع دے۔‘ بانڈ نے سترہ ٹیسٹ میچ میں اُنہتر وکٹیں اور سڑسٹھ ایک روزہ میچز میں ایک سو پچیس وکٹیں حاصل کی ہیں۔ وہ اس سال برطانیہ کے خلاف نیوزی لینڈ میں سیریز نہیں کھیل پائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق بانڈ کا بھارتی کرکٹ لیگ کے ساتھ معاہدہ چار لاکھ پاؤنڈ کا ہے۔ ان کے علاوہ نیوزی لینڈ کے کرس کین، نیتھن، کرس ہیرس، کریگ مک ملن، ہمیش مارشل، اور ڈیرل ٹفی بھی نیوزی لینڈ بھارتٹ کرکٹ لیگ کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو جسٹن ووگھن کا کہنا ہے ’یہ بہت مشکل مرحلہ ہے اور ہمیں آئی سی سی کے قواعد و ضوابط کا احترام کرنا ہوگا۔ اس لیے ہم شین بانڈ کو نیوزی لینڈ کی طرف سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘ | اسی بارے میں لیگ: براہِ راست معاہدہ نہیں ہو گا15 September, 2007 | کھیل انڈین کرکٹ لیگ پر ملا جلا ردعمل20 August, 2007 | کھیل انڈین لیگ: حقیقت پسندی کا لمحہ20 August, 2007 | کھیل انضمام، یوسف انڈین لیگ میں20 August, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||