پاکستان کا دورہ، آسٹریلیا محتاط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلین کرکٹ بورڈ کے سربراہ جیمز سدرلینڈ نے امید ظاہر کی ہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باوجود آسٹریلیوی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔ آسٹریلیوی کرکٹ ٹیم سے مارچ 2008 میں تین ٹیسٹ اور پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے سلسلے میں پاکستان کو دورہ کرنا ہے۔ جیمز سدرلینڈ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاکستان جا کر کھیلنے کا وعدہ کیا ہوا ہے جسے پورا کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی، لیکن کھلاڑیوں کی سکیورٹی بھی ہمارے لیے اتنی ہی اہم ہے۔‘ انہوں نے کہا مجوزہ سیریز کے انعقاد کا جائزہ لیتے ہوئے کھلاڑیوں کی حفاظت پر ان کے بورڈ کی توجہ مرکوز ہوگی۔ آسٹریلیا 1998 کے بعد سے پاکستان میں ایک بھی مکمل سیریز نہیں کھیلا۔ سال 2002 میں پاکستان میں سکیورٹی تحفظات کے پیش نظر دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ سیریز سری لنکا اور شارجہ میں کھیلی گئی تھی۔ تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو میلکم سپیڈ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کی یقین دہانی تو کہیں بھی نہیں کرائی جا سکتی۔ ’کافی عرصے سے آسٹریلیا جیسی ٹیم پاکستان نہیں کھیلی جبکہ وہاں شائقین کرکٹ اس کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔‘ ادھر آسٹریلیوی وزیر اعظم کیون رڈ نے کہا کہ کرکٹ ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے پہلے وہاں امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی کا پورا جائزہ لیا جائے گا۔ | اسی بارے میں دورۂ زمبابوے منسوخ کریں: ہاورڈ13 May, 2007 | کھیل ’آسٹریلیوی ٹیم اب بھی مضبوط ہے‘06 March, 2007 | کھیل پہلا فائنل، آسٹریلیا کی شکست09 February, 2007 | کھیل آسٹریلیا نےسری لنکا کوہرا دیا26 January, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||