یہ جیت معنی رکھتی ہے: سمتھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے کپتان گریم سمتھ کے نزدیک برصغیر میں ٹیسٹ میچ کی جیت کوئی معمولی بات نہیں اور وہ کراچی ٹیسٹ کی جیت کو اپنے کریئر کی اہم کامیابی سمجھتے ہیں۔ کراچی ٹیسٹ میں رنز کی کامیابی کے بعد صحافیوں کے روبروگریم سمتھ نے کہا کہ بحیثیت کپتان انہوں نے ٹیسٹ اور ون ڈے میں کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن یہ جیت ان کے لیے معنی رکھتی ہے۔ برصغیر میں ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے آپ کو اپنی تمام ترصلاحیتیں بروئے کار لانی پڑتی ہیں۔ گریم سمتھ نے47 ویں ٹیسٹ میں20 ویں کامیابی اپنے نام کی ہے ان کا کہنا ہے کہ کراچی آکر چند روز ہی میں موسم وغیرہ سے ہم آہنگ ہونا اور پھر ٹیسٹ میچ جیت لینا بڑی بات ہے۔ تمام کھلاڑیوں نے سخت محنت کی ہے۔ گریم سمتھ کا کہنا ہےکہ ان کے بولرز نے بہت عمدہ بولنگ کی ۔گیم پلان پال ہیرس کےگردگھوم رہا تھا جنہوں نے برصغیر کی وکٹوں پر پہلی مرتبہ بولنگ کرتے ہوئے میچ میں سات وکٹیں حاصل کیں جبکہ دوسری اننگز میں اسٹین کی کارکردگی قابل ذکر رہی۔ سمتھ کا کہنا ہے کہ وہ پہلےسیشن میں ایک دو وکٹوں کے انتظار میں تھے جس کے ذریعے پاکستانی ٹیم کو شکست کے قریب کیا جاسکے۔ جنوبی افریقی کپتان نے یونس خان کی اننگز کی تعریف کی اور کہا کہ چوتھے دن وہ بہت ہی اچھا کھیلے لیکن آخری دن اس کارکردگی کو جاری رکھنا اس صورتحال میں آسان نہ تھا جبکہ گیند پرانی ہوتی جارہی تھی۔ سمتھ کے خیال میں یہ ٹیسٹ ان کی ٹیم کے لیے اس لیے بھی یادگار رہے گا کہ مارک باؤچر نے وکٹ کیپنگ کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔ کیلس نے واپس ٹیم میں آتے ہوئے شاندار پرفارمنس دے کر ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ وہ واقعی ایک قابل اعتماد بیٹسمین ہیں۔ | اسی بارے میں باؤچر سب سے کامیاب وکٹ کیپر03 October, 2007 | کھیل جنوبی افریقہ کی برتری 235 رن03 October, 2007 | کھیل کراچی: پاکستان کا مڈل آرڈر ناکام02 October, 2007 | کھیل پاکستان کو جیت کے لیے 278 رنز04 October, 2007 | کھیل کراچی ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ فاتح05 October, 2007 | کھیل شعیب، لاسن پہلے ٹیسٹ کیلیے تیار30 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||