ششانک بی سی سی آئی کےاگلےصدر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ودربھ کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر ششانک منوہر اب بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا ( بی سی سی آئی) کے نئے صدر ہوں گے۔ اگرچہ ان کے نام کا باضابطہ اعلان بورڈ کی سالانہ جنرل باڈی میٹنگ کے بعد کیا جائے گا تاہم ان کا صدر بننا یقینی ہے کیونکہ جمعرات کی شام جب پرچہ نامزدگی داخل کرنا تھے تو ششانک کے علاوہ کسی اور نے خود کو نامزد نہیں کیا۔ بی سی سی آئی کے نائب صدر اور راجستھان کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر للت مودی اس عہدے کے مضبوط دعویدار مانے جا رہے تھے لیکن انہوں نے بھی ششانک کے نام پر اتفاق کر لیا ہے۔ بی سی سی آئی کے موجودہ صدر شرد پوار آئندہ برس سالانہ اجلاس عام سے قبل جون میں اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں گے کیونکہ انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے صدر کے الیکشن میں حصہ لینا ہے۔ آئی سی سی کے موجودہ صدر ڈیوڈ مورگن کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ بی سی سی آئی صدر کے عہدے کی مدت دو سال ہوتی ہے لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ ششانک اپنی مدت سے زیادہ وقت تک اس عہدے پر فائز رہیں گے۔سن دو ہزار گیارہ میں ورلڈ کپ انڈیا میں کھیلا جائے گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ ششانک اس وقت تک بورڈ کے صدر رہیں گے۔ اس سال کے سالانہ اجلاس میں بورڈ کے تمام ممبران نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ صدر کے عہدے کی مدت پوری ہونے کے بعد اگر بورڈ ممبران چاہیں تو اتفاق رائے سے ان کی میعاد میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ ناگپور کے مشہور وکیل ششانک، شرد پوار کے قریبی بتائے جاتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سن دو ہزار پانچ میں جگموہن ڈالمیا اور شرد پوار کے درمیان صدارتی عہدے کی ’جنگ‘ میں ششانک نے ایک اہم رول ادا کیا تھا اور پوار کی فتح کا سہرا ششانک کے سر ہی باندھا گیا تھا۔ انڈین ٹیم کے ورلڈ کپ سے باہر ہو جانے کے بعد ششانک نے ہی ٹیم میں کرکٹ کھلاڑیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کی فیس طے کرنے کی بات کہی تھی۔ بی سی سی آئی کی میٹنگ میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ سابق کھلاڑی روی شاستری نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے چیئرمین کے عہدے کی ذمے داری سنبھالیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||