کرکٹرز کیلیےایک لاکھ ڈالرکا بونس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے سنٹرل کانٹریکٹ پر دستخط کرنے والے کھلاڑیوں کی حب الوطنی اور ملک کے ساتھ وابستگی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بونس دینے کا اعلان کیا ہے۔ اے کٹیگری کے کھلاڑیوں کے لیے ایک لاکھ ڈالر کا انعام، بی کٹیگری کے لیے پچاس ہزار ڈالر کا اور سی کیٹیگری کے کھلاڑیوں کے لیے 25 ہزار ڈالر کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ حال ہی میں متعدد سینیئر پاکستانی کرکٹرز کے انڈین کرکٹ لیگ میں شمولیت کے بعد پی سی بی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف جو مستقبل کے لیے کرکٹ ہیروز کو تلاش کرنے کے ایک پروگرام ’ہنٹ فار ہیروز‘ کی تقریب میں خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اس انعام کے لیے ایڈہاک کمیٹی سے منظوری لے لی گئی تھی لیکن ہماری خواہش تھی کہ ٹیم کی روانگی کے بعد اس کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جن کھلاڑیوں نے ابھی تک کانٹریکٹ پر دستخط نہیں کیے اگر وہ دستخط کر دیں گے تو وہ بھی اس انعام کے حق دار ہوں گے اور ان میں محمد یوسف بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ جمعرات کی شام کو ان کا محمد یوسف سے رابطہ ہوا، وہ دیر میں تبلیغی چلا کاٹ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس دوران کوئی دنیاوی بات نہیں کرنا چاہتے اور وہ 22 ستمبر کو واپس آئیں گے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ جب وہ واپس آئیں گے تو وہ انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پروگرام ہنٹ فار ہیروز کی بابت ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے تحت سولہ سال سے کم عمر ایسے کھلاڑیوں کو تلاش کیا جائے گا جو کسی بھی نظام کے تحت نہیں کھیل رہے یعنی گلیوں اور سڑکوں پر کھیلنے والے کرکٹ کے شیدائی شامل ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ اس پروگرام کو چلانے کے لیے ایک نجی سیلولر کمپنی موبلنک اور ایک نجی ٹیلی ویژن چینل نے اشتراک کیا ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت ملک کے ہر کونے سے باصلاحیت کھلاڑیوں کومنتخب کر کے انہیں بہترین کوچز سے تربیت کروائی جائے گی۔ ان کھلاڑیوں میں سے قومی انڈر 16 ٹیم بنائی جائے گی اور ان کھلاڑیوں کو کھیل بھی سکھایا جائے گا اور ان کو تعلیم بھی دی جائے گی تاکہ ان کی شخصیت بن سکے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا آئین ایک ہفتے میں نافذ کر دیا جائے گا اور اس کے نفاذ کے بعد ایڈہاک کمیٹی ختم ہو جائے گی۔ ڈاکٹر نسیم اشرف سے دریافت کیا گیا کہ آئین کے نفاذ کی صورت میں نئے چیئرمین کا انتخاب الیکشن کے ذریعے ہوگا تو کیا وہ امید وار ہوں گے اس پر اکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ ایک ہفتے تک وہ اس کا فیصلہ کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||