21 سال بعد انگلینڈ میں پہلی فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ کی آخری اننگز میں انگلینڈ کے بلے باز کیون پیٹرسن نے سنچری بنا کر اپنی ٹیم کو ہار سے تو بچا لیا لیکن تین ٹیسٹ میچوں کی یہ سیریز انگلینڈ صفر کے مقابلے میں ایک میچ سے ہار گئی۔ بھارت نے انیس سو چھاسی کے بعد پہلی مرتبہ انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتی ہے۔ آخری ٹیسٹ کے آخری دن انگلینڈ نے چھپن رنز پر اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا۔ انگلینڈ کو دوسری اننگز میں یہ میچ جیتنے اور سیریز برابر کرنے کے لیے پانچ سو رنز درکار تھے لیکن ان کے کھلاڑیوں کے بلے بازی کے انداز سے دکھائی دیتا تھا کہ وہ میچ جیتنے کے لیے نہیں میچ بچانے کے لیے کھیل رہے ہیں۔ اینڈروسٹراس نے ایک سو تیرہ بالوں پر بتیس رنز بنائے جسے سے صاف نظر آ رہا تھا وہ میچ بچانے کے لیے کھیل رہے ہیں۔ تاہم کیون پیٹرسن نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک سو ایک رنز بنائے اور پہلے مائیکل وان کی شراکت میں چھیاسٹھ رنز اور پھر کالنگ ووڈ کے ساتھ ایک سو چوالیس رنز بنائے۔ چائے کے وقفے کے بعد کیون پیٹرسن سری سانتھ کی ایک باہر آف سٹمپ پر پڑ کے باہر جاتی ہوئی گیند پر شاٹ لگاتے ہوئے سلپ میں کارتک کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد ائن بیل ستاسٹھ رنز بنائے اور کھیل ختم ہونے تک انگلینڈ نے مجموعی طور پر تین سو انہتر رنز بنائے تھے اور اس کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں کیون پیٹرسن کا کپتانی سے انکار21 June, 2007 | کھیل کالنگوڈ انگلینڈ کے نئے کپتان22 June, 2007 | کھیل انڈیا سات وکٹوں سے جیت گیا31 July, 2007 | کھیل انگلینڈ : ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں05 August, 2007 | کھیل بھارتی بلے بازوں کی عمدہ کارکردگی09 August, 2007 | کھیل فالوآن سے بچاؤ کے لیے 465 رن درکار10 August, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||