گلکرسٹ کی گیند پر احتجاج مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹرییا کی کرکٹ ٹیم نے سری لنکا کی ٹیم کی اس شکایت کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ورلڈ کپ کے دوران ایڈم گلکرسٹ نے بلّے بازی بہتر کرنے کے لیے ’سکواش بال‘ استعمال کی تھی۔ ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں 104 گیندوں میں 149 رنز بنانے والے گلکرسٹ ، اپنے بائیں دستانے میں سکواش کھیلنے والی گیند رکھے ہوئے تھے۔ سری لنکا کرکٹ کے اہلکار اگلے مہینے ہونے والے انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل کے اجلاس میں یہ معاملہ اٹھانے پر غور کر رہے ہیں۔ لیکن آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کے ترجمان پیٹر ینگ نے معاملہ کی سنجیدگی کم کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر کوئی بلّے باز بلّے کے ہینڈل پر دو یا تین گرپز جڑھا لے یا مختلف دستانوں سے بلّے بازی کرے تو اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ تمام چیزیں ان دنوں عمل میں لائی جاتی ہیں اور سبھی ایک ہی درجے میں آتی ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ایڈم گلکرسٹ جیسا اعلی اخلاقی معیار والا کرکٹر آسانی سے نہیں مل سکتا ہے‘۔ ورلڈکپ میں گلکرسٹ نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ سری لنکا اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے فائنل میچ میں گلکرسٹ نے کھبی یہ چھپانے کی کوشش نہيں کی کہ وہ ’سکواش بال‘ کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ تکنیک انہوں نے اپنے کوچ باب میولیمان کے ساتھ وسٹ انڈیز روانہ ہونے سے قبل اپنائی تھی۔ اسٹریلیا کے اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کوچ باب میولیمان نے کہا کہ ’میں نے ان کے ساتھ دس برس کام کیا ہے اور ان کی بلّے پر عجیب پکڑ ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک اسکواش سنٹر سے کچھ گیند لے کر آئے تھے اور انہوں نے وہ گیند گلکرسٹ کو دے دیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’ ورلڈ کپ روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے اسکواش بال کو دستانوں میں رکھ کر بلّہ گھمایا اور وہ ہٹ کافی شاندار تھا۔‘ لیکن سری لنکا کرکٹ کے سکریٹری کنگادرن ماتھیونن کا کہنا تھا کہ روایتی طور پر کرکٹ میں اسکواش گیندوں کا استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں آسٹریلیا کا ’دہشتگرد‘ بیٹسمین28 April, 2007 | کھیل کرکٹ کے رو بہ بازوال طاقتیں 20 March, 2006 | کھیل خطرناک ون ڈے بیٹسمین16 June, 2005 | کھیل گلکرسٹ کو دو میچوں کا آرام22 January, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||