شفیع نقی جامعی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کِنگسٹن |  |
 | | | جمعہ کو پاکستانی ٹیم مونٹیگو بے پہنچ گئی تھی |
پاکستانی کرکٹ ٹیم مونٹیگو بے سے لندن کے ذریعے پاکستان کے لیے روانہ ہونےوالی ہے۔ پاکستانی ٹیم اور انتظامیہ کے ساتھ جمیکا کی پولیس کے کمانڈوز موجود ہیں جو ان کی روانگی تک ان کے ساتھ رہیں گے۔ دریں اثناء باب وولمر کے گھر والوں نے کہا ہے کہ انہیں یہ نہیں معلوم تھا کی ان کی جان کو خطرہ ہے۔ پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہی باب وولمر کی میت بھی لندن جانی تھی جہاں سے اسے جنوبی افریقہ لے جایا جاتا لیکن ابھی یہ یقینی نہیں ہے۔ پاکستانی ٹیم کے میڈیا ترجمان پی جے میر نے بتایا کہ جب تک وولمر کے قتل کے تحقیقاتی افسر کی اجازت نہیں مل جاتی، ان کی میت جمیکا میں ہی رہے گی۔ پرویز جمیل میر نے بتایا کہ وہ اور کرکٹ بورڈ کے اہلکار اسد مصطفیٰ اس وقت تک جمیکا میں ہی رہیں گے جب تک باب وولمر کی میت یہاں ہے۔  | وولمر کی میت جمیکا میں ہی  تک وولمر کے قتل کے تحقیقاتی افسر کی اجازت نہیں مل جاتی، ان کی میت جمیکا میں ہی رہے گی۔ پی جے میر نے بتایا کہ وہ اس وقت جمیکا میں ہی رہیں گے جب تک باب وولمر کی میت یہاں ہے۔  |
پولیس کے مطابق جمعہ کے روز پاکستانی ٹیم کے سبھی کھلاڑیوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا جو کہ حفاظتی قدم ہے تاکہ وولمر کے قتل کی ساری کڑیاں جوڑی جاسکیں۔ پی جے میر نے بتایا کہ ڈی این اے ٹیسٹ ایک معمول کی کارروائی تھی تاکہ وولمر کے قاتلوں کو پکڑنے میں مدد حاصل کی جاسکے۔ اسی دوران باب وولمر کے قتل کی تفتیش کے دوران ہوٹل کے جس منزل پر ان کا کمرہ تھا اس پر واقع کیمرے سے کچھ بھی ایسے شواہد نہیں ملے ہیں جس سے قاتل کی تلاش میں مدد مل سکے۔ گزشتہ اتوار کے روز کِنگسٹن کے پیگسس ہوٹل میں باب وولمر بیہوش پائے گئے تھے جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا ہے۔ جمیکا کی پولیس نے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ باب وولمر کا ان کے ہوٹل کے کمرے میں گلا گھونٹ دیا گیا تھا۔
|