سری لنکا کی ریکارڈ جیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی کرکٹ کپ کے سلسلہ میں جمعرات کو ٹرینیڈاڈ کے شہر پورٹ آف سپین کے کوینز پارک اوول میں سری لنکا کے 321 رنز کے جواب میں برمودا کی پوری ٹیم 78 رنز پر آؤٹ ہو گئی اور اس طرح سری لنکا یہ میچ 243 رنز سے جیت گیا ہے۔ سری لنکا کے بولروں میں مہاروف سب سے کامیاب بولر رہے انہوں نے 23 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ملنگا نے تین، مرلی دھرن دو جبکہ واس نے ایک کھلاڑی آؤٹ کیا۔ میچ کے آغاز میں ہی برمودا کے دونوں اوپنر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔ پہلا وکٹ صفر کے سکور پر سمتھ کا گرا اور دوسرا دو کے سکور پر مقدم کا۔ اس کے بعد 14 رنز بنا کر ہیمپ اور پھر بغیر کوئی رن بنائے رومین آؤٹ ہوئے۔ سری لنکا کو پانچواں وکٹ 25 کے سکور پر ملا جب پچر کو مہاروف نے آؤٹ کیا۔ جب سکور 29 پر پر پہنچا تو مائنر اور پھر 39 کے سکور پر ٹکر آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد بورڈن، کین، اور لیوراک بھی سکور میں کوئی خاص اضافہ نہ کر سکے۔ اس سے قبل سری لنکا کی ٹیم چھ وکٹ کے نقصان پر 321 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔ آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی مہاروف تھے جنہوں نے نو رنز بنائے۔ ان سے پہل دلشن ہرڈل کی گیند پر 12 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے تھے۔ سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سری لنکا کی اننگز کا آغاز تھارنگا اور جے سوریا نے کیا۔ جب سکور 62 پر پہنچا تو جے سوریا 22 رنز بنانے کے بعد مقدم کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے کچھ دیر بعد تھارنگا بھی ہرڈل کی گیند پر وکٹ کیپر مائنرز کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ انہوں نے 30 رنز بنائے۔
سنگارا 76 رنز بنانے کے بعد میچ کے چونتیسویں اوور میں آؤٹ ہو گئے۔ اس وقت سری لنکا کا مجموعی سکور 230 تھا۔ چوتھے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی جے وردھنے تھے جو بدقسمتی سے اپنی سنچری مکمل نہیں کر سکے اور نوے گیندوں پر ستاسی رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ سری لنکا کی طرف سے سلوا 55 رنز بنانے کے بعد ناٹ آؤٹ رہے۔ سری لنکا کے کپتان مہیلا جے وردھنے نے میچ سے پہلے کہا تھا کہ ان کے خیال میں ان کی ٹیم ایک مرتبہ پھر عالمی چیمپین بننے کی پوزیشن میں ہے۔ ’ہمیں یقین ہے کہ ہمارے پاس وہ ٹیم ہے جو ولڈ کپ جیت سکتی ہے، ہمارے پاس کئی اچھے کمبینیشن ہیں۔‘ برمودا کی ٹیم: کھلاڑی رومانے (کپتان)، مائنرز، بورڈن، کین، ہمپ، ہرڈل، لیوراک، مقدم، پچر، سمتھ، جے ٹکر۔ سری لنکا کی ٹیم: میں جے وردھنے (کپتان)، جیاسوریا، تھرنگا، سنگاکارا، دلشان، آرنلڈ، سی سلوا، چمندا واس، مہاروف، ملنگا، مرلی دھرن۔ |
اسی بارے میں ٹیم جو کچھ بھی کر سکتی ہے11 March, 2007 | کھیل یوسف اور مرلی، بہترین کھلاڑی01 January, 2007 | کھیل 2007 میں ریٹائر ہو سکتا ہوں: مرلی13 January, 2006 | کھیل بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||