ٹیم جو کچھ بھی کر سکتی ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا ایسی ٹیم ہے جس کا کوئی بھروسہ نہیں۔ وہ یا تو شاندار میچ کھیل سکتی ہے یا سپر ایٹ ہی میں آؤٹ ہوجا سکتی ہے۔ مہیلا جے وردھنے میری نظر میں شاندار کپتان ہیں۔ لیکن ان کی قیادت کا فیصلہ اتاپتو کے زخمی ہونے کی وجہ سے حادثاتی طور پر کیا گیا۔ جس سے اس کا کیرئیر بن سکتا ہے۔ وہ ایک بہترین بئٹسمین بھی ہیں اور ٹیم کی ٹاپ لائین میں جے سوریا جیسے تجربہ کار اور بہت ہی خطرناک کھلاڑی اور سمجھدار اتاپتو بھی تو شامل ہیں۔ جہاں تک بالرز کی با ت ہے تو چمیندا واس اور مرلی دھرن ہرایک میچ میں مل کر بیس اوورز دیں گے کیونکہ انہوں نے انڈیا کے خلاف سیریز میں ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے خوب آرام کیا تھا۔ واس بہت اچھے انداز سے سلو بال کراتے ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ مرلی بھی اپنے خطرناک سپن آف بریکز دے گا۔ سری لنکا کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ اس کے اہم کھلاڑیوں کو بقیہ ٹیم کیا سپورٹ دیتی ہے۔ تلکرتنے اور چمارا سلوا جیسے کھلاڑیوں کو لوئر آرڈر بیٹنگ کے ساتھ پرفارم کرنا پڑے گا۔ آل راؤنڈر پرویزمہاروف کو اہم رول ادا کرنا ہے اور اس کے ساتھ فاسٹ بولر ڈلہارا فرنینڈو اور ملنگا جیسے کھلاڑی بھی بیک اپ میں موجود ہیں۔ لیکن اب ان کو سلو اور لو وکٹوں پر متوازن کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ جو ممکن ہے ان کے بالنگ سٹائل سے مطابقت نہ بھی رکھتی ہو۔ سری لنکا کی ٹیم کی فیلڈنگ بھی بہت اچھی ہے۔ان کی فیلڈنگ کوچ ٹام موڈی کے آنے بعد بہتر ہوئی ہے۔ کرکٹ کے شائقین کو یاد ہوگا کہ سری لنکا نے کیسے دو ہزار چھ میں انگلینڈ کو پانچ صفر سے ہرایا تھا۔ ون ڈے انٹرنیشنل میں وہ توشاید انگلینڈ کی بھی بہت بری کارکردگی تھی۔ ان میچوں میں سری لنکا نے یہ ظاہر کیا تھا کہ ان کے پاس ایسے بھی کھلاڑی موجود ہیں جو موقع سے فائدہ اٹھاکر کھیل کو اپنے حق میں بدل لیتے ہیں۔ لیکن میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ سری لنکا کوئی ایسی ٹیم نہیں جس کے ورلڈ کپ جیتنے پر شرط لگائی جا سکے۔ | اسی بارے میں 624 رن کی ریکارڈ شراکت29 July, 2006 | کھیل ریکارڈ ساز ٹیسٹ، سری لنکا فاتح31 July, 2006 | کھیل سری لنکا: اٹاپٹو کی ٹیم میں واپسی14 March, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||