BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 February, 2007, 21:51 GMT 02:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اظہر جنوبی افریقہ جانے کے لیے تیار

اظہرمحمود اکیس ٹیسٹ اور139 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں
جنوبی افریقہ میں پاکستانی بالرز کے فٹنس مسائل اور آل راؤنڈر عبدالرزاق کی غیر تسلی بخش کارکردگی کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے آل راؤنڈر اظہرمحمود کو فوری طور پر جنوبی افریقہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ وہ منگل کو جنوبی افریقہ روانہ ہونگے۔

اس سے قبل تیز بالر راؤ افتخار کو جنوبی افریقہ کے لیے تیار رہنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن اب ان کی جگہ اظہرمحمود کو جنوبی افریقہ بھیجنے کا اشارہ وہاں سے آیا ہے۔

اکتیس سالہ اظہرمحمود اکیس ٹیسٹ اور139 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں لیکن دوسال قبل آسٹریلیا میں کھیلی گئی ون ڈے سیریز کے بعد سے وہ پاکستانی ٹیم سے باہر ہیں۔

اظہرمحمود نے قائداعظم ٹرافی میں ملتان کے خلاف میچ کی دونوں اننگز میں سنچریاں بنائی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اظہرمحمود نے اس سال ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی عمدہ کارکردگی کے بارے میں کوچ باب وولمر کو ای میل بھی کی ہے اس بارے میں خود اظہرمحمود کا کہنا ہے کہ باب وولمر نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے بارے میں کپتان اور جنوبی افریقہ میں موجود چیف سلیکٹر وسیم باری سے بات کریں گے۔

اظہرمحمود نے ایک باصلاحیت کرکٹر کے طور پر بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا تھا اور1997ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے اولین ٹیسٹ میں سنچری بھی بنائی تھی۔ جب پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ جوابی سیریز کھیلنے گئی تھی تو تین ٹیسٹ میچوں میں اظہرمحمود نے دو سنچریاں بنائی تھیں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی کارکردگی کا معیار برقرار نہ رکھ سکے۔

اظہرمحمود کی گرتی ہوئی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اکتوبر میں نیروبی میں کھیلے گئے آئی سی سی ناک آؤٹ ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں چار وکٹیں حاصل کرنے کے بعد سے انہوں نے42 ون ڈے کھیلے لیکن ان میں ان کی وکٹوں کی تعداد صرف21 رہی اور وہ بھی76ء68 کی بھاری اوسط سے۔

اسی طرح1999ء میں بھارت کے خلاف ایڈیلیڈ میں نصف سنچری کے بعد انہوں نے46 اننگز کھیلی ہیں لیکن ان میں ان کا سب سے زیادہ اسکور43 رنز رہا جبکہ صرف82ء17 کی اوسط سے ان کا مجموعی سکور صرف 624 رہا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد