BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دوسرے وکٹ کیپر کو کھلایا جائے‘

 کامران اکمل
کامران اکمل کچھ عرصے سے اہم موقع پر کیچ چھوڑ دیتے ہیں۔
پاکستان کے سابق وکٹ کیپرز نے کامران اکمل کی وکٹ کیپنگ کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ کامران اکمل کو آرام دے کر کسی دوسرے وکٹ کیپر کو موقع دیا جائے۔

کامران اکمل تین سال سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا لازمی حصہ ہیں اس عرصے میں وہ وکٹ کیپنگ اور بیٹنگ دونوں شعبوں میں عمدہ کارکردگی سے اپنا کردار مؤثر طور پر ادا کرتے آئے ہیں۔

چیف سلیکٹر وسیم باری کا کہنا ہے کہ کامران اکمل وکٹوں کے پیچھے ریلکس دکھائی نہیں دے رہے اور ان کے چہرے سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے ان پر کوئی دباؤ ہے اسی لیے وہ گیند سے نظر ہٹا لیتے ہیں۔

وسیم باری نے جو خود اپنے دور کے ورلڈ کلاس وکٹ کیپر تھے ٹیم منیجمنٹ کو مشورہ دیا ہے کہ کامران اکمل کو اعتماد بحال کرنے کے لیے آرام کی ضرورت ہے لہذا ٹیم میں شامل دوسرے وکٹ کیپر ذوالقرنین کو موقع دیا جائے۔

سابق وکٹ کیپر راشد لطیف کے خیال میں کامران اکمل پہلے جیسا پھرتیلا نہیں رہا۔اسے ڈائیونگ کا مسئلہ بھی درپیش ہے یہ بھی دیکھنا ہے کہ اسے کوئی انجری تو نہیں جسے وہ چھپا کر کھیل رہا ہے۔

راشد لطیف کاکہنا ہے کہ پورے سال کامران اکمل کی وکٹ کیپنگ معیاری نہیں رہی جس کا خمیازہ بولرز اور ٹیم کو بھگتنا پڑا خصوصاً دانش کنیریا کی بولنگ پر سٹمپڈ اور کیچز مہنگے پڑے۔

سابق کپتان کے خیال میں لوسکورنگ میچ میں ملنے والے مواقع ضائع کردینے سے نتیجہ ہی بدل جاتا ہے۔

راشد لطیف کا کہنا ہے کہ کامران اکمل کو چاہئے کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر کھویا ہوا اعتماد بحال کریں۔

کسی دوسرے وکٹ کیپر کو موقع دینے کے بارے میں راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ٹیم منیجمنٹ کامران اکمل کو ہمیشہ سے اعتماد دیتی رہی ہے یہ اچھی بات ہے لیکن ایک حد تک یہ صحیح ہے۔ اگر کسی دوسرے وکٹ کیپر کو تیار رکھا جاتا تو آج ٹیم کی مشکلات دور ہوسکتی تھیں۔

راشد لطیف جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز کے دو تین میچوں میں ذوالقرنین کو موقع دینے کے حق میں ہیں ان کا کہنا ہے کہ کامران اکمل کو نہ کھلانے کا کچھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ہوسکتا ہے کہ دوسرا وکٹ کیپر اس جیسی بیٹنگ نہ کرسکے لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کامران اکمل صرف ایک ہی اننگز میں قابل ذکر بیٹنگ کرسکے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں وقتی وکٹ کیپر سے بھی کام لیا جاسکتا ہے جیسے بھارتی ٹیم راہول ڈراوڈ سے لے چکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد