کامران اکمل کے والد خطرے سے باہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر کامران اکمل کے والد محمد اکمل کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ انہیں کل رات نامعلوم ڈاکوؤں نے مزاحمت کرنے پر گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ میو ہسپتال لاہور میں زیرِ علاج محمد اکمل نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جمعہ کی رات داتا صاحب پر حاضری کے لیےگئے تھے اور ان کے ساتھ ان کا بیٹا بھی تھا۔ اسی دوران جب محمد اکمل گاڑی سے کچھ سامان لینے کے لیے گئے تو اس وقت مسلح ڈاکوؤں نے انہیں گاڑی میں دھکیل کر گاڑی کے ہمراہ لے گئے اور ان سے سونے کی چین، انگوٹھی، تیس ہزار روپے اور اے ٹی ایم کارڈ چھین لیا۔ محمد اکمل کے مطابق ڈاکوؤں نے ان سے اے ٹی ایم کارڈ کا ’پن کوڈ‘ بتانے کو کہا اور تاخیر پرگولی چلا دی۔ کامران اکمل کے والد کے مطابق ڈاکوگولی مارنے کے بعد ڈیڑھ گھنٹے تک انہیں لیے سڑکوں پر گھومتے رہے جس کی وجہ سے ان کا کافی خون بہہ گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک لمحے کے لیے ڈاکوؤں نے انہیں جان سے مارنے کا ارادہ بھی کیا لیکن قدرت کو منظور نہیں تھا اس لیے ڈاکو انہیں سگیاں پل کے قریب کھیتوں میں پھینک کر ان کی گاڑی لے کر چلے گئے۔ اس موقع پر کچھ لوگوں نے انہیں دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی جس نے انہیں ہسپتال پہنچایا۔محمد اکمل نے کہا کہ خون زیادہ بہہ جانے کے سبب ان کی حالت کافی خراب ہو گئی تھی تاہم بروقت طبی امداد ملنے سے ان کی حالت اب سنبھل گئی ہے۔ کامران اکمل آج کل جنوبی افریقہ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جانب سے ٹیسٹ سیریز کھیل رہے ہیں۔ ان کی کل رات اپنے والد سے بات ہوئی اور محمد اکمل کے مطابق’ وہ بہت پریشان تھا اور پاکستان آنے پر اصرار کر رہا تھا لیکن میں نے اسے تسلی دی اور میچ چھوڑ کر آنے سے منع کیا‘۔ کامران اکمل کے والد کا کہنا تھا کہ پولیس ان سے کافی تعاون کر رہی ہے اور پولیس کے اہم افسران نے اس واقعے کے بعد ان سے ملاقات کی ہے۔اس واقعے کا مقدمہ تھانہ لوئر مال میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے تاہم تاحال اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ | اسی بارے میں ’القاعدہ ڈاکو‘ پکڑ لیے گئے25 February, 2006 | پاکستان محسن ڈاکو کے لیئے احتجاج 21 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||