’غلط اپیلیں نہیں کرتا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دورہ ویسٹ انڈیز میں پاکستانی وکٹ کیپر کامران اکمل کی کارکردگی قابلِ ذکر رہی۔ اس دورے کے موقع پر ہمارے نمائندے عارف شمیم نے ان سے بات چیت کی۔ اس موقع پر کامران اکمل کا کہنا تھا کہ دوسرے میچ کے دوران وکٹوں کے پیچھے ان کی کارکردگی قابلِ اطمینان رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پہلے ٹیسٹ میں وہ بیٹنگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے تاہم دوسرے میچ میں انہوں نے نازک وقت میں انچاس رن بنائے اور نو کیچ بھی پکڑے جس نے پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ میچ کے دوران اپنے جوشیلے انداز کے بارے میں کامران کا کہنا تھا کہ وہ غلط اپیلیں نہیں کرتے اور انہیں آج تک کسی جانب سے زیادہ اپیلیں کرنے پر تنبیہ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ دوسرے ٹیسٹ میں لارا کے آؤٹ پر کامران نے کہا کہ لارا کے جلد آؤٹ ہونے نے پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دانش کنیریا نے اس میچ میں اچھی بالنگ کی اور ویسٹ انڈیز کے تمام اہم کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور ان کی بالنگ اور انضمام کی سنچری کی بدولت ہی پاکستان میچ جیتنے میں کامیاب رہا۔
اس سوال پر کہ وکٹوں کے پیچھے کس بالر کا سامنا کرنا مشکل ہے کامران کا کہنا تھا کہ ابھی تک انہیں کسی بالر کی بولنگ پر مشکل نہیں پیش آئی۔ کامران کا کہنا تھا کہ ان کے کیریئر کی ابتدا سے ہی راشد لطیف ان کے آئیڈیل ہیں اور انہیں دیکھ کر ہی انہوں نے کیپنگ شروع کی۔ بین الاقوامی کرکٹ میں آئیڈیل کے بارے میں کامران اکمل نے بتایا کہ وہ گلکرسٹ سے متاثر ہیں اور آسٹریلیا کے دورے کے دوران سابق آسٹریلوی وکٹ کیپر آین ہیلی نے ان کی بہت رہنمائی کی۔ اس سوال پر کہ وکٹ کیپنگ مشکل ہے یا بیٹنگ کامران نے کہا کہ اصل بات پریکٹس کی ہے لیکن وکٹ کیپنگ میں زیادہ محنت اور پریکٹس کی ضرورت ہے اور پریکٹس کیے بغیر میچ میں کیپنگ نہیں کی جاسکتی۔ آئندہ سیزن میں مصروفیات کے بارے میں کامران کا کہنا تھا کہ تین ماہ آرام کے بعد پاکستان کا بہت مصروف شیڈول ہے اور ان کی کوشش ہے کہ ان تین ماہ کے دوران وہ فٹ رہیں اور اپنی خامیوں پر قابو پائیں تاکہ مستقبل کی سیریز میں فتح حاصل کی جا سکے۔
اس سوال پر بھارت اور ویسٹ انڈیز کی حالیہ سیریز میں انہیں دونوں ٹیموں میں کوئی فرق محسوس ہوا کامران نے کہا کہ کوئی ایسا خاص فرق نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان اور بھارت کے مابین جب بھی میچ ہوں پریشر زیادہ ہوتا ہے تاہم انہیں کسی قسم کا پریشر محسوس نہیں ہوا۔ دورہ بھارت کے دوران موہالی میں اپنی یادگار اننگز کے بارے میں کامران نے کہا کہ وہ اننگز انہیں ہمیشہ یاد رہے گی۔ ان کا کہنا تھا ’ اس میچ میں کوشش تھی کہ میچ بچاؤں اور میچ بچانے میں میرے ساتھ انضی بھائی، یوسف اور عبدالرزاق نے اہم کردار ادا کیا۔ ہم نے میچ ایک پلان کے تحت کھیلا اور کامیاب رہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||