BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 January, 2007, 14:12 GMT 19:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محمد یوسف کی جنوبی افریقہ روانگی

محمد یوسف بیٹی کی ولادت کے موقع پر پہلے ٹیسٹ میں شرکت نہ کرسکے
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین محمد یوسف بیٹی کی ولادت کے بعد آئندہ چند روز میں جنوبی افریقہ روانہ ہو رہے ہیں۔

وہ انیس جنوری سے پورٹ الزبتھ میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ کے لیے دستیاب ہوں گے۔

محمد یوسف اہلیہ کے آپریشن کی وجہ سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ساتھ جنوبی افریقہ نہیں جا سکے تھے جس کے نتیجے میں سنچورین میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میں وہ حصہ نہ لے سکے۔ تاہم بیٹی کی ولادت کے بعد اب وہ اتوار یا پیر کو جنوبی افریقہ روانہ ہوجائیں گے۔

محمد یوسف کی ٹیم میں دوبارہ شمولیت پاکستان کے نقطۂ نظر سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ گزشتہ سال انہوں نے 9 سنچریوں کی مدد سے 1788 رنز بناکر کیلنڈر ایئر میں سب سے زیادہ سنچریوں اور رنز کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر آپریشنز سلیم الطاف کا کہنا ہے کہ فاسٹ بولر عمرگل بھی فٹ ہوچکے ہیں اور ان کے دوسرا ٹیسٹ کھیلنے کی توقع ہے، البتہ کرکٹ بورڈ کو شعیب ملک کی فٹنس رپورٹ کا انتظار ہے۔ شعیب بھی جنوبی افریقہ پہنچ چکے ہیں۔

یوسف کی ٹیم میں واپسی کافی اہم ہے
 محمد یوسف کی ٹیم میں دوبارہ شمولیت پاکستان کے نقطۂ نظر سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ گزشتہ سال انہوں نے 9 سنچریوں کی مدد سے 1788 رنز بناکر کیلنڈر ایئر میں سب سے زیادہ سنچریوں اور رنز کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا۔

سلیم الطاف کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوچ باب وولمر نے شعیب ملک کے ان فٹ ہونے کے بعد ٹیم میں آل راؤنڈر اظہر محمود کو شامل کرنے کی درخواست کی تھی جو مسترد کردی گئی۔

اکتیس سالہ اظہر محمود کو ورلڈ کپ کے اعلان کردہ تیس ممکنہ کھلاڑیوں میں بھی شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس بارے میں سیلیکشن کمیٹی کے سربراہ کا موقف یہ ہے کہ وہ پیچھے کی طرف نہیں بلکہ آگے کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

اظہر محمود نے دوسال قبل آخری ون ڈے انٹرنیشنل کھیلا تھا۔ 1998 میں جنوبی افریقہ کے خلاف دھواں دار سنچری کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کی ابتدا کرنے والے اظہرمحمود اپنی کارکردگی میں تسلسل برقرار نہیں رکھ سکے تھے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ1999 میں بھارت کے خلاف نصف سنچری کے بعد46 ون ڈے اننگز میں ان کی کوئی نصف سنچری نہیں تھی

اور 2000 میں نیوزی لینڈ کے خلاف آئی سی سی ناک آؤٹ کے میچ میں چار وکٹیں حاصل کرنے کے بعد آخری 41 اننگز میں وہ بولنگ میں بھی غیرمؤثر رہے اور کسی اننگز میں وہ دو سے زیادہ کھلاڑی آؤٹ نہ کرسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد