BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 January, 2007, 23:11 GMT 04:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیپ ٹاؤن ٹیسٹ دلچسپ مرحلے میں
ٹنڈولکر
ٹنڈولکر بیٹنگ آرڈر میں اپنے پسندیدہ نمبر چار پر میدان میں نہ آ سکے
جنوبی افریقہ کو دورے پر آئی ہوئی بھارتی ٹیم کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کے کیپ ٹاؤن میں جاری تیسرے اور آخری میچ میں فتح کے لیے ایک سو چھپن رنز کی ضرورت ہے اور اس کی ابھی آٹھ وکٹیں باقی ہیں۔

جمعہ کو جب چوتھے روز کا کھیل ختم ہوا تو جیت کے لیے بھارت کی طرف سے دیئے گئے دو سو گیارہ رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ نے دو کھلاڑیوں کے نقصان پر پچپن رنز بنائے تھے۔

دوسری اننگز میں جنوبی افریقہ کے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی ڈی وِلیرز اور ہاشم آملہ تھے جبکہ کپتان گراہم سمتھ اکیس رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ تھے۔ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں جو بھی ٹیم جیتے گی وہی سیریز کی فاتح ہوگی کیونکہ اس سے پہلے دونوں ٹیمیں ایک ایک میچ جیت چکی ہیں۔


اس سے قبل بھارت کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں ایک سو انہتر رن بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ بھارت کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی مناف پٹیل تھے جو سٹین کا چوتھا شکار بنے۔ بھارت کی جانب سے سورو گنگولی اور کپتان راہول ڈراوڈ کے علاوہ کوئی بھی بلے باز قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا۔

دوسری اننگز میں بھارتی ٹیم کا آغاز اچھا نہ تھا اور صرف 6 کے مجموعی سکور پر دونوں اوپنر پویلین میں واپس جا چکے تھے۔بھارت نے دوسری اننگز میں بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کی اور پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے وسیم جعفر کے ساتھ وریندر سہواگ سے اوپننگ کروائی تاہم جعفر چار اور سہواگ صرف دو رن بنا سکے۔

ابتدائی نقصان کے بعد راہول ڈراوڈ اور سورو گنگولی کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 84 رن کی شراکت کی بدولت بھارتی ٹیم بہتر پوزیشن میں آ گئی تھی۔ تاہم گنگولی کے آؤٹ ہونے کے بعد یکے بعد دیگرے دو بھارتی وکٹیں گریں۔

پہلے 114 کے مجموعی سکور پر راہول ڈراوڈ سنتالیس کے انفرادی سکور پر آؤٹ ہوئے اور صرف ایک رن بعد ہی وی وی ایس لکشمن رن آؤٹ ہوگئے۔ بعد میں آنے والے کھلاڑیوں میں دنیش کارتک کے علاوہ کوئی بھی بلے باز جم کر نہ کھیل سکا۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے سٹین نے چار جبکہ پولاک، ہیرس، نتنی اور کیلس نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

جنوبی افریقہ نے چوتھے روز کھانے اور چائے کے وقفے کے دوران چار بھارتی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا

کھیل کے تیسرے دن جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 373 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی اور بھارت کو اکتالیس رن کی برتری حاصل ہوئی تھی۔

بھارت کی طرف سے انیل کمبلے نے چار اور سری سنتھ نے دو وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ جنوبی افریقہ کے کپتان گریم سمتھ نے 94، ہاشم آملہ نے 63 اور ژاک کیلس نے 54 رنز بنائے تھے۔ اس کے علاوہ وکٹ کیپر مارک باؤچر نے بھی اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

بھارت کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 414 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی۔ بھارت کے بلے باز وسیم جعفر نے 116 رنز بنائے تھے جبکہ سچن تندولکر 64 ، سوروگنگولی 66 اور وریندر سہواگ 40 رنز بنا کر نمایاں رہے تھے۔

’ٹنڈولکر میدان میں نہیں آ سکتے‘

میچ میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب دوسری اننگز میں بھارت کی دو وکٹیں گرنے کے بعد نمبر چار پر بیٹنگ کرنے والے بلے باز سچن ٹنڈولکر مقررہ تین منٹ میں میدان میں نہ آئے اور جنوبی افریقہ کے کپتان سمتھ نے امپائروں سے ’ٹائم آؤٹ‘ ہونے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کر دیں۔

اگر کوئی بلے باز مقررہ وقت میں میدان میں نہ آئے تو مخالف ٹیم اس کے آؤٹ ہونے کی اپیل کر سکتی ہے۔ اس طرح آؤٹ ہونے کی فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں تو چار مثالیں ہیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں ایسا ابھی تک نہیں ہوا۔

ٹنڈولکر کے وقت مقررہ میں نہ آنے کے بارے میں ابہام اس وقت دور ہوا جب یہ بتایا گیا کہ میچ کے تیسرے روز وہ اٹھارہ منٹ کے لیے میدان سے باہر رہے اور اب قوانین کے مطابق انہیں اتنی ہی دیر کریز سے دور رہنا ہوگا۔

دوسری اننگز میں بھارت کے پہلی دو وکٹیں بارہ منٹ میں ہی گر گئیں تھیں، جس کا مطلب تھا کہ ٹنڈولکر ابھی بھی مزید چھ منٹ تک میدان میں نہیں اتر سکتے۔

لیکن بھارتی ٹیم کو میچ آفیشلز نے اس قانون کی عملدآری کے بارے میں تقریباً اس وقت بتایا جب اس کی دوسری وکٹ گری۔ چنانچہ ٹنڈولکر کی بجائے گنگولی کو نمبر چار پر بیٹنگ کرنا پڑی۔

اسی بارے میں
ڈربن میں بھارت کو شکست
30 December, 2006 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد