آسٹریلیا کا انگلینڈ کو بھرپور جواب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا میں کھیلی جانے والی ایشز سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز کھیل ختم ہونے پر انگلینڈ نے اپنی دوسری اننگز میں انسٹھ رنز بنائے تھے اور اس کا ایک کھلاڑی آؤٹ ہوا تھا۔ اس سے قبل آسٹریلیا کی پوری ٹیم انگلینڈ کی ٹیم کے پانچ سو اکاون کے جواب میں پانچ سو تیرہ رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی۔ انگلینڈ کو پہلی اننگز میں اڑتیس رنز کی برتری حاصل تھی۔ اس طرح انگلینڈ کو مجموعی طور پر ستانوے رنز کی برتری حاصل ہے۔ دوسری اننگز میں انگلینڈ کے واحد آؤٹ ہونے والے کھلاڑی الیسٹر کک تھے۔ انہوں نے نو رن بنائے۔ آسٹریلیا کی اننگز کی خاص بات کپتان رکی پونٹنگ اور مائیکل کلارک کی شاندار سنچریاں تھیں جن کی بدولت آسٹریلیا انگلینڈ کے پانچ سو اکاون رنز کے قریب پہنچ سکا۔ آسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ کی یہ تینتسویں سنچری تھی۔ رکی پونٹنگ کو اب ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا سچن تندولکر کا ریکارڈ برابر کرنے کے لیے انہیں صرف دو سنچریاں بنانی ہیں۔ انگلینڈ کی طرف سے تیز رفتار بولر میتھیو ہوگارڈ نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سات ووکٹیں حاصل کئیں۔ ٹسیٹ کے چوتھے روز انگلینڈ کے کپتان اینڈریو فلنٹاف زیادہ وقت میدان سے باہر رہے اور ان کے گٹے میں چوٹ کی افواہیں گرم رہیں۔ وکٹ کیپر بیٹسمین ایڈم گلگرسٹ نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہو ئے نصف سنچری بنائی۔ تیسرے روز کےکھیل کے اختتام پر آسٹریلیا نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 312 رنز بنائے تھے اور اسے فالو آن سے بچنے کے لیے مزید چالیس رنز کی ضرورت تھی۔ انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 551 بنا کر اننگز ڈیکلیئر کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ انگلینڈ کی اننگز کی خاص بات پال کولنگوڈ کی ڈبل سنچری اور کیون پیٹرسن کے 158 کی اننگز تھی۔ | اسی بارے میں ایشز: انگلینڈ کو پہلی کامیابی02 December, 2006 | کھیل پہلے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کی جیت27 November, 2006 | کھیل جنوبی افریقہ بھارت سے جیت گیا26 November, 2006 | کھیل ’آسٹریلوی کرکٹ ٹیم غیر مہذب ہے‘10 November, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||