پونٹنگ سنچریوں کی دوڑ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ اتوار کو اپنے کیرئر کی تینتیسویں سنچری بنا کر ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ سنچریوں کی دوڑ میں چوتھے کھلاڑی کے طور پر شریک ہوگئے ہیں۔ اس وقت ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ سچن تندولکر کے پاس ہے جنہوں نے پینتیس مرتبہ سو یا اس سے زیادہ رنز سکور کیے ہیں۔ دوسرے نمبر پر ویسٹ انڈیز کے برائن لارا اور انڈیا کے سنیل گواسکر ہیں۔ دونوں کی سنچریوں کی تعداد چونتیس ہے۔ اتوار کو ایشیز سیریز کے دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن انگلینڈ کے خلاف سنچری بنا کر پونٹنگ نے اپنے ہم وطن سٹیو وا کا بتیس سنچروں کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ ایڈیلڈ میں کھیلے جا رہے میچ میں ہفتے کو جب پونٹنگ بیٹنگ کے لیے آئے تو آسٹریلیا کا ایک کھلاڑی آؤٹ ہو چکا تھا۔ پینتیس کے انفرادی سکور پر میتھیو ہوگارڈ کی گیند پر ایشلے گائلز نے پونٹنگ کا ایک کیچ چھوڑ دیا۔ اس کے بعد پونٹنگ ایک سو بیالیس رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ اس میچ میں آسٹریلیا نے تیسرے دن تک تین سو بارہ رنز بنائے ہیں اور اس کے پانچ کھلاڑی آؤٹ ہوئے ہیں۔ تاہم سنچریوں کے ریکارڈ کی طرف بڑھتے ہوئے پونٹنگ نے تینتیسویں بار سو رنز بنانے کو زیادہ اجاگر نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’مجھے اعداد و شمار میں کم دلچسپی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں نے اتنے رنز بنا لیے ہیں مگر میں اس پر توجہ نہیں دیتا۔‘
رکی پونٹنگ نے مزید کہا: ’دوسرے کھلاڑی اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ ان کی رنز کی تعداد کتنی ہوگئی ہے لیکن میرا ذہن اس طرف نہیں جاتا۔‘ اتوار کی سنچری بنا کر رکی پونٹنگ نے ایک کلینڈر سال میں اپنی ساتویں سنچری بنائی ہے۔ انگلینڈ کے خلاف ایشیز سیریز میں تین اننگز میں انہوں نے بالترتیب ایک سو چھیانوے، ساٹھ (ناٹ آؤٹ) اور ایک سو بیالیس رنز بنائے ہیں۔ پونٹنگ نے آٹھ ٹیسٹ میچوں میں تین نصف سنچریاں بنائی ہیں اور اتوار کو اننگز کے اختتام پر وہ جنوری سے اب تک آٹھ میچوں میں 1200 رنز بنا چکے ہیں۔ ان کی بیٹنگ اوسط ایک سو نو اعشاریہ صفر نو ہے۔ اس سال پونٹنگ زیادہ سے زیادہ پانچ مزید اننگز کھیل سکتے ہیں اور مبصر کہتے ہیں کہ جس رفتار سے وہ کھیل رہے ہیں اور جس فارم میں ہیں اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہ کوئی نیا ریکارڈ بھی قائم کر سکتے ہیں۔ پونٹنگ نے انیس سو پچانوے میں کھیلنا شروع کیا تھا۔ ان کی آخری دس سنچریاں صرف تیرہ ٹیسٹ میچوں میں بنی ہیں اور ان کی اوسط فی میچ پچاسی رنز ہے۔ اتوار کو انگلینڈ کے خلاف تیسرے دن کا کھیل ختم ہونے پر رکی پونٹنگ نے ایک سو سات ٹیسٹ میچوں میں ساٹھ رنز فی میچ کی اوسط سے نو ہزار ایک سو نوے رنز بنائے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کے برائن لارا نے ایک سو اکتیس میچوں میں 52.91 جبکہ تندولکر نے ایک سو بتیس میچوں میں 55.39 کی اوسط سے سکور کیا ہے۔ | اسی بارے میں رکی پونٹگ سال کے بہترین کھلاڑی03 November, 2006 | کھیل پونٹنگ چار شعبوں میں نامزد22 October, 2006 | کھیل پونٹنگ کا نیا عالمی ریکارڈ07 January, 2006 | کھیل پونٹنگ درجہ بندی میں سرفہرست13 March, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||