پونٹنگ درجہ بندی میں سرفہرست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہانسبرگ میں آسٹریلوی کپتان کی دھواں دھار سنچری ان کی ٹیم کے کام تو نہ آ سکی مگر 167 رن کی اس اننگز کی بدولت رکی پونٹنگ ریکارڈ پوائنٹس کے ساتھ بلے بازوں کی آئی سی سی ون ڈے درجہ بندی میں پہلے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ اس اننگز کے بعد پونٹنگ کے کل پوائنٹس 805 ہوگئے ہیں اور وہ دوسرے نمبر پر موجود آسٹریلوی وکٹ کیپر بلے باز ایڈم گلکرسٹ سے 12 پوائنٹس آگے ہیں۔ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کی حالیہ ون ڈے سیریز میں شاندار کارکردگی کی بدولت آسٹریلین آل راؤنڈر اینڈریو سمنڈز 761 پوائنٹس کے ساتھ نہ صرف دنیا کے تیسرے بہترین بلے باز بن گئے ہیں بلکہ وہ بہترین آل راؤنڈرز کی فہرست میں بھی تیسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی تاریخی جیت کے ہیرو ہرشل گبز کی درجہ بندی میں گیارہ درجوں کی ترقی ہوئی ہے اور وہ بائیسویں سے گیارہویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ عالمی درجہ بندی میں شامل جنوبی افریقی بلے بازوں میں گبز اب گریم سمتھ کے بعد دوسرے بہترین بلے باز ہیں جبکہ جنوبی افریقہ کے کپتان گریم سمتھ حالیہ سیریز میں 244 رن بنانے کے بعد دنیا کے چوتھے بہترین بلے باز بن گئے ہیں۔ ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کے اس سب سے زیادہ سکور والے میچ کے بعد جہاں بلے بازوں کی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے وہیں بالروں کو زیادہ رن دینے کا خمیازہ درجہ بندی میں تنزلی کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے۔
آسٹریلوی بالر بریٹ لی عالمی درجہ بندی میں تین درجے تنزلی کے بعد تیسرے سے چھٹے نمبر پر چلے گئے ہیں۔ تاہم ناتھن بریکن کو حالیہ سیریز میں بہتر کاکردگی کی وجہ سے پہلی مرتبہ دس بہترین بالروں کی فہرست میں جگہ ملی ہے اور وہ 693 پوائنٹس کے ساتھ نویں نمبر پر موجود ہیں۔ آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں فتح کے نتیجے میں جنوبی افریقہ کی ٹیم اکتوبر میں بھارت میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی درجہ بندی میں دوسرے نمبر پر رہے گی اور نتیجتاً اسے گروپ مقابلوں میں آسٹریلیا کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ آسٹریلیا اور دوسرے درجے کی ٹیم کے پوائنٹس میں اکتوبر سنہ 2003 کے بعد پہلی مرتبہ اتنا کم فرق رہا ہے تاہم اب بھی آسٹریلیا کو جنوبی افریقہ پر 15 پوائنٹس کی سبقت حاصل ہے۔ آسٹریلیا 133 پوائنٹس کے ساتھ عالمی نمبر ایک ٹیم ہے جبکہ جنوبی افریقہ 118 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ | اسی بارے میں تاریخ ساز میچ، جنوبی افریقہ فاتح12 March, 2006 | کھیل متعدد ورلڈ ریکارڈ ٹوٹ گئے12 March, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||