BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 September, 2006, 00:19 GMT 05:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت میں بہتر کارکردگی: شعیب

شعیب اختر بھارت دورے کا بےچینی سے منتظر ہیں
فاسٹ بولر شعیب اختر بھارت میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اس منی ورلڈ کپ ایونٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

اکتیس سالہ شعیب اختر نے کراچی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ہمسٹرنگ انجری کے سبب وہ بھارت کا دورہ نہیں کرسکے تھے جس کا انہیں ابھی تک افسوس ہے کیونکہ بھارت میں کرکٹ کھیلنے کا اپنا مزہ ہے۔

شعیب اختر جنہوں نے42 ٹیسٹ میں165 اور133 ون ڈے میچوں میں208 وکٹیں حاصل کی ہیں کہتے ہیں کہ گھٹنے کی شدید تکلیف کے سبب وہ انگلینڈ کے خلاف آخری ون ڈے نہیں کھیل سکے تھے، چوتھے ون ڈے میں وہ عبدالرزاق کی گیند پر فیلڈنگ کرتے ہوئے گرگئے تھے جس کے باعث ان کے گھٹنے میں سوجن ہوگئی تھی لیکن اب وہ مکمل فٹ ہیں۔

شعیب اختر کے خیال میں چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم کی جیت کے اتنے ہی امکانات روشن ہیں جتنے کسی دوسری ٹیم کے ہوسکتے ہیں۔ ’پاکستان کی بیٹنگ اور بولنگ مضبوط ہے لیکن فیلڈنگ بہتر کرنی ہوگی۔‘

شعیب اختر کرکٹ میں فیورٹ کی اصطلاح کو نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ون ڈے میں کسی بھی ٹیم کی جیت کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ اس دن ٹیم کی کارکردگی پر جیت کا انحصار ہوتا ہے۔

کیا آسٹریلوی ٹیم قابل شکست ہے؟ شعیب اختر اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں، ’بالکل ہے۔‘

اس سلسلے میں وہ کوالالمپور کی حالیہ سہ فریقی ون ڈے سیریز کی مثال دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستانی ٹیم کی عالمی چیمپئن کے خلاف کارکردگی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم نے آسٹریلیا کو اسی کی سرزمین پر ہرایا ہے اور بعض میچوں میں جیت کے قریب بھی آئی ہے۔

راولپنڈی ایکسپریس کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ سے قبل پاکستانی ٹیم کا شیڈول بہت سخت اور مصروف ہے جس میں فاسٹ بولرز کو بڑی احتیاط سے استعمال کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے میدان نرم ہیں۔ وہاں کنڈیشن ایسی تھیں کہ وہ دو ماہ میں تھک گئے۔

جنوبی افریقہ کے میدان ریت پر بنے ہوئے ہیں جن پر فاسٹ بولرز کے ان فٹ ہونے کا خطرہ رہتا ہے، وہ خود جنوبی افریقہ میں ان فٹ ہوچکے ہیں وہاں ان کا فٹنس ریکارڈ خراب ہے رہا ہے۔ ’ساؤتھ افریقہ کے میدان ریت پر بنے ہوئے ہیں جن پر فاسٹ بولرز کے ان فٹ ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔‘

شعیب اختر کا کہنا ہے کہ وہ ورلڈ کپ تک مکمل فٹ رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنا چاہتے ہیں، فی الحال ون ڈے میں دو سو پچاس وکٹوں کی تکمیل ان کے ذہن میں ہے۔

اسی بارے میں
شعیب اختر کی واپسی؟
13 August, 2006 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد