BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 July, 2006, 16:47 GMT 21:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’شاہد آفریدی اوپننگ بیسٹمین ہو‘

لارڈز میں محمد یوسف کی سینچری پر دانش انہیں مبارکباد دے رہے ہیں
پاکستان نے لارڈز میچ بالاخر ڈرا کروا لیا۔ اس سلسلے میں پاکستان کو محمد یوسف کی بلے بازی کا شکر گزار ہو نا چاہیے۔ پہلی اننگز میں ان کی انتہائی خوبصورت سینچری سے قبل پاکستان کو فالو آن کا خطرہ تھا اور امکان تھا کہ پاکستان یہ میچ ہار جائے۔

لیکن میری رائے میں یہ کہنا انتہائی بیوقوفی ہوگی کہ عیسائیت سے اسلام لانے کے بعد محمد یوسف ایک انتہائی کامیاب بلے باز کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔

کرکٹ کھیل ہے مذہب نہیں اور محمد یوسف کے بطور بیسٹمین پرفارمنس میں اسلام لانے سے کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ انہیں بڑے سکور کرنا اچھا لگتا ہے اور انڈیا اور انگلینڈ کے خلاف انہوں نے بڑے کامیاب سکور کیے ہیں۔

جب پچ ہموار ہو اور بالر حالات موڑنے کی کوشش کر رہے ہوں تو ایسے میں محمد یوسف کی بلے بازی کے جوہر کھل کے سامنے آتے ہیں۔

اب وقت ہے کہ کہ سیکنڈ ٹیسٹ کے بارے میں سوچا جائے۔ اگر مجھے ٹیم کے انتخاب کی ذمہ داری دی جاتی تو میں شاہد آفریدی کو اوپننگ بیسٹمین کے طور پر چنتا۔ میرے خیال میں دو لیفٹ ہینڈ بیٹسمینوں کو رکھنے کی بجائے پاکستان کے ٹاپ آرڈر میں اگر ایک رائٹ ہینڈ بیٹسمین اور ایک لیفٹ ہینڈ بیٹسمین ہو تو بہتر ہو گا جیسے لارڈز ٹیسٹ میں ہوا کہ دونوں اوپنر لیفٹ ہینڈ تھے۔

آفریدی بطور اوپننگ بیٹسمین کے بہت خطرناک ہے کیونکہ اننگز کے آغاز میں تمام فیلڈر سلیپرز اور کورز میں ہوتے ہیں اور شاہد انڈین اوپنر سہواگ کی طرح نئی گیند زیادہ بہتر انداز میں کھیل سکتے ہیں۔

پاکستان بیٹسمین شاہد آفریدی

میرے خیال میں ان کے ساتھ دو میں سے ایک لیفٹ ہینڈ بیٹسمین سلمان بٹ یا عمران فرحت ہونے چاہئیں اور یونس تیسرے نمبر پر زیادہ بہتر کھیل سکتے ہیں۔ محمد یوسف چار اور انضام پانچ نمبر پر ہی کھیلتے رہیں اور ان کےساتھ فیصل اقبال جو لارڈز میں تیسرے نمبر پر تھے۔ انہیں چھ پر بھیجنا چاہیے۔

انگلینڈ میں ٹیسٹ میچوں کے لیئے وکٹوں پر گھاس زیادہ کیوں نہیں ہے میری سمجھ سے قاصر ہے۔ ہموار ٹریک پر پاکستانی ٹیم بہت اچھا کھیلتی ہے اور وہ بہت زیادہ رن بنا سکتی ہے۔ کھلاڑی ریورس اور سوئنگ بالنگ کو زیادہ بہتر انداز میں کھیل سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹیم میں ایک اور سپن بالر مشتاق احمد کی شمولیت پر غور کیا جا رہا ہے۔

اگر ٹیم نے پہلی انگز میں پانچ سو سے چھ سو رنز بنا لیے تو میچ کے ڈرا ہونے کے امکانات زیادہ ہوں گے لیکن اگر تین سو رنز بنے تو میچ کا کوئی نتیجہ نکلنے کی امید ہے۔

پاکستان کو ماضی میں گرین پچ پر کھیلتے ہوئے مشکلات ہوتی رہی ہیں اور شیعب اختر کیونکہ ٹیم میں نہیں تو کوئی اور بالر گرین پچ سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

دوسری طرف مشتاق اور دانش کنیریا ہموار پچ پر پاکستان کو سیریز جیتنے کا اچھا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ ہر سیشن کے آخر میں ان کے پاس لیگ سپنر آفریدی بھی کچھ اوررز کے لیے بالنگ کروانے کے لیے موجود ہوں گے۔

کیچ پکڑنے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے

اس صورت حال میں انگلینڈ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اولڈ ٹرافورڈ میں پاکستان کی فیلڈنگ میں بہتری آئے گی۔ لارڈز میں ڈراپ کیے جانے والے کیچ ناقابل معافی تھے۔

پاکستان اور انڈیا دونوں نے ہی بالنگ اور بیٹنگ پر توجہ دی ہے مگر فیلڈنگ پر اتنی توجہ نہیں دی گئی اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں ماضی میں فیلڈنگ میں مشکلات کا سامنا رہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ٹیم کو دوسرے ٹیسٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد