BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 July, 2006, 18:28 GMT 23:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈرا ہونے میں سٹراس کا ہاتھ بھی تھا

انضمام‘ فیصل اقبال اور پھر محمد کی پرفارمنس قابل ستائش ہے
انگلستان کے دورے میں پاکستان نے پہلا کرکٹ ٹیسٹ ڈرا کرلیا ہے۔ اس میچ کو برابر کرنے میں پاکستان کے بیٹسمین محمد یوسف کی ڈبل سنچری کا بہت بڑا رول تو ہے کہ ان کی اور انضمام الحق کی بیٹنگ کی وجہ سے پاکستان فالو آن سے بچ گیا لیکن میچ کےاس نتیجے میں انگلینڈ کے کپتان اینڈریو سٹراس کا بھی اتنا ہی عمل دخل ہے۔

انہون نے سنچری تو بنائی لیکن جہان تک کپتانی کا تعلق ہے وہان وہ مات کھا گئے۔ پہلی اننگز میں تراسی رن کی برتری حاصل کرنے کے بعد دوسری باری لیتے ہوئے جب ڈکلیریشن کا وقت آیا تو وہ یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ پاکستان کو کس وقت دوسری باری دی جائے۔

چونکہ وہ ایک ہی ٹیسٹ کے لیئے کپتان بنائے گئے تھے اس لیئے وہ کسی قسم کا چانس لینا نہیں چاہتے تھے اور یقینی طور پر یہی وجہ تھی کے وہ ڈکلیریشن کی ٹائمنگ کا صحیح تعین نہین کرسکے۔

چوتھے دن کے کھیل کے خاتمے پر انگلینڈ کو 341 رن کی برتری حاصل تھی اور اگر وہ اسی سکور پر آخری دن کے کھیل میں پاکستان کو بیٹنگ کروا کر ٹارگٹ حاصل کرنے کی دعوت دیتے تو یہ ممکن تھا کہ میچ کا نتیجہ انگلینڈ کے حق میں ہو سکتا تھا۔ لیکن آخری دن آدھے گھنٹے مزید بیٹنگ کرکے اسٹراس نے یہ موقع گنوا دیا۔

اگر کھیل شروع ہوتے ہی پاکستان بیٹنگ کرتا تو ممکن تھا کہ انگلینڈ کے بالر پاکستان کے بیٹسمینوں پر زیادہ دباؤ ڈال سکتے اور میچ کو فیصلہ کن بنا سکتے۔
ڈرے ڈرے سٹراس نے جب اپنی دوسری اننگز ڈکلیئر کی توظاہر ہے کہ پاکستان کے کھلاڑی 380 رن کا حدف تو حاصل نہیں کر سکتے تھے اس وجہ سے وقت کا تقاضا یہی تھا کہ میچ کو بچانے کی کوشش کی جائے۔

جب پاکستان کے دونوں اوپننگ کھلاڑی سلمان بٹ اور عمران فرحت آؤٹ ہو گئے تو ظاہر ہے کہ یہ تشویش ضرور ہوئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان اپنے روایتی انداز میں بیٹنگ کی کولیپس میں پھنس جائے لیکن جس اعتماد سے انضمام اور فیصل اقبال اور پھر محمد یوسف نے بالروں کا مقابلہ کیا اور پر اعتماد طریقے سے میچ کو برابر کرنے میں کامیاب ہوئے وہ قابلِ ستائش ہے۔

یہ تو تھا انگلینڈ کے کپتان اسٹراس اور پاکستان کے کھلاڑیون کا امتحان پہلے ٹیسٹ کے خاتمے پر۔

دوسرے ٹیسٹ میں اینڈریو فلنٹاف کپتان کی حیثیت سے واپس آئیں گے اور پاکستان کے یونس خان بھی فٹ ہوں گے اور مقابلہ سخت ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد