سہیل نےریٹائرمنٹ واپس لے لی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی شہرت یافتہ پنالٹی کارنر ایکسپرٹ سہیل عباس نے ریٹائرمنٹ ختم کر کے بین الاقوامی ہاکی میں واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔ بین الاقوامی ہاکی میں سب سے زیادہ 274 گول کرنے والے 29 سالہ سہیل عباس نےگزشتہ سال لاہور میں کھیلی گئی چیمپئنز ٹرافی کے موقع پر ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے عروج پر انٹرنیشنل ہاکی چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن اگر ٹیم کو ضرورت ہوئی تو وہ بڑے ٹورنامنٹس کے لئے دستیاب ہوں گے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار ان کے ریٹائرمنٹ کے فیصلے سے خوش نہیں تھے اور انہوں نے سہیل عباس کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس وقت سہیل عباس نے جو ہالینڈ میں پرخطیر معاوضے پر لیگ ہاکی کھیل رہے تھے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ تبدیل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سہیل عباس نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لینے کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ملک اور قوم کے مفاد میں یہ قدم اٹھایا ہے۔تاہم انہوں نے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ جذباتی تھا۔ سہیل عباس نے اس سوال پر کہ کیا پاکستان ہاکی فیڈریشن اس فیصلے کا خیرمقدم کرے گی کہا کہ ان کے ادارے کے سربراہ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار میں یقینا بات ہوئی ہوگی تاہم یہ فیصلہ ان کا اپنا ہے جبکہ قومی ٹیم میں منتخب کرنا یا نہ کرنا فیڈریشن کا کام ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم کے کوچ آصف باجوہ حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی ٹیم کو سہیل عباس کی ضرورت نہیں تاہم اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد فیڈریشن کے سیکریٹری نے ٹیم کی جن خامیوں کا ذکر کیا ہے ان میں پنالٹی کارنر پر گول نہ ہونا بھی شامل ہے۔ سہیل عباس کے بعد پنالٹی کارنر پر گول کرنے کی ذمہ داری محمد عمران اور عمران وارثی کے سپرد رہی ہے لیکن اس سلسلے میں خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آسکے ہیں۔ | اسی بارے میں سہیل عباس فیڈریشن سے ناراض09 August, 2005 | کھیل سہیل عباس واپسی کے لیے تیار نہیں26 June, 2005 | کھیل سہیل عباس: نہ تو ہاں نہ ہی نہ12 April, 2005 | کھیل وسیم احمد، سہیل عباس ریٹائر12 December, 2004 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||