پاپا راتزی فٹبالروں کی بیویوں کے پیچھے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فٹبال کے میدان میں مختلف ممالک کے درمیان جاری جنگوں کے ساتھ ساتھ ایک اور مقابلے کی جنگ بھی جاری ہے اور وہ ہے پاپاراتزی کے درمیان ورلڈ کپ کی بہترین تصویر لینے کی جنگ۔ فوٹوگرافر اپنے کیمرے اٹھائے فٹبالرز کی بیویوں کے پیچھے ہیں، چاہے وہ جرمنی کے بادن بادن سٹیڈیم میں موجود ہوں یا پھر شہر کے سیاحتی مقامات کی سیر کرنے جائیں۔ فٹبالروں کی بیویاں اور گرل گرینڈز بھی اس مقابلے کے لیئے بھرپور تیاری میں ہیں۔ بادن بادن کے دریا کے کنارے موجود ایک کیمرہ مین انتہائی انہماک سے ایک جوڑے کی تصاویر لینے میں مصروف ہے۔ وہ اپنے ساتھی سے کہ رہا ہے: ’ہم سجھے یہ جینیفر اینسٹن کی طرح کوئی فلمی ستارہ ہے لیکن یہ تو ایک فٹبالر کی بیوی ہے‘۔ یانی لندن کی ایک فوٹو گرافی ایجنسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اپنے کیمرے کے ساتھ دریا کے کنارے پر موجود ہیں اور یہاں سے وہ دریا کے دوسرے کنارے موجود فٹبالر کی بیویوں اور ان کی گرل فرینڈز کو دیکھ سکتے ہیں۔
ان فوٹوگرافروں کی زندگی آج کل ایک ہی نکتے پر مرکوز ہے۔ ’کیا تم فرینک لیمپارڈ کی تصویر لینے میں کامیاب ہوئے ہو؟‘ ’ہاں کوشش تو کی تھی مگر میں صرف پیچھے سے ہی ان کی تصویر لے سکا ہوں۔ یہ زیادہ اچھی تصویر نہیں ہوگی‘۔ ’دیکھو دیکھو جو کول کی گرل فرینڈ بھی وہاں ہے۔ شاید وہ جو کول کے بھائی کے ساتھ ہے‘۔ ’مجھے اس کے جوتوں اور ہینڈ بیگ کی تصویر لینی ہے۔ دیکھو وہ وہاں شاپنگ کررہی ہے‘۔ ’دکاندار خوش نہیں ہے کہ ہم دکان کے دروازے پر تصویر لینے کھڑے ہیں۔ اس نے دروازے پر کاغذ لگانے کی بھی کوشش کی ہے لیکن وہ اچھی ہے۔ تصویر لینے کا برا نہیں مانتی‘۔
جونہی وہ دکان سے باہر نکلتی ہے۔ فوٹو گرافر دوڑ دوڑ کر آگے پیچھے غرضیکہ ہر طرف سے اس کی تصاویر لینے کی کوششوں میں ہیں۔ کچھ فوٹوگرافروں سے یہ فٹبال کے ستارے اور ان کی محبوب ہستیاں کافی تنگ ہیں۔ لیکن دیگر فوٹوگرافروں نے ایسے طریقے اپنائے ہیں جو ان لوگوں کے لیئے الجھن کا باعث بھی نہ ہوں اور پا پاراتزی بھی اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائے۔ دوسری طرف فوٹوگرافر، ذرائع ابلاغ کے ان سوالات سے تنگ ہیں کہ آیا ان کے کیمرے فٹبالروں اور ان کی بیویوں کے لیئے کتنی مشکلات کا باعث ہیں۔ یانی اور ان کے ساتھی ڈیوڈ اور جارج کچھ خاص تصاویر لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور یہ تصاویر ہیں چڑیا گھر کی سیر کے دوران ڈیوڈ بیکہم کے کھیلتے بچوں کی۔ جارج کا کہنا ہے کہ تمام فٹبالروں کی بیویوں کے درمیان مقابلہ سخت ہے۔ ’ایک مرتبہ تو دو خواتین ناراض ہی ہوگئیں کہ ہم ان کی تصویریں نہیں لے رہے اور باقی فٹبالروں کی بیویوں کی لے رہے ہیں۔ پھر ہم نے ان دونوں کے خصوصی فوٹو شوٹ کیئے‘۔
جارج اپنی کار میں بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ سے تصاویر لندن بھیجنے میں مصروف ہے کہ بیکہم فیملی قریب سے گزری۔ ان کے باڈی گارڈ نے گاڑی کے پاس آکر کہا ’آپ کافی تصاویر لے چکے ہیں۔ پلیز اب بس کیجیئے‘۔ جارج نے کہا کوئی مسئلہ نہیں۔ ایسا ہی ہوگا‘۔ اور پھر جارج اپنے فون پر ہے۔ ’ہیلو۔ بیکہم لوگ اب پل پر سیدھے ہاتھ پر مڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اب ان کی مزید تصاویر نہ لی جائیں۔ احتیاط کرنا‘۔ اور پھر ایک اور فون کال۔ سٹو سٹو۔ اگر تصویر لینی ہے تو 70-80 گز دور سے لینا۔ انہیں معلوم نہ ہو۔ اگر ہو بھی جائے تو یہ نہ بتانا کہ تم لوگ مجھے جانتے ہو۔ انہوں نے مجھے تصویر لینے سے منع کیا تھا۔ اور میں نے کہا تھا کہ ایسا ہی ہوگا‘۔ | اسی بارے میں ’رونالڈو میں اب وہ بات نہیں رہی‘14 June, 2006 | کھیل فٹبال عالمی کپ کا ساتواں دن15 June, 2006 | کھیل جرمنی کی سنسنی خیز فتح 14 June, 2006 | کھیل برازیل اور کوریا فاتح، فرانس برابر13 June, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||