’مین آف میچ کااعزاز نہیں لیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی فٹبال فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اگر جرمنی میں جاری فٹبال ورلڈ کپ کے مقابلوں میں اس کے کسی کھلاڑی کو مین آف دی میچ کا اعزاز کا دیا گیا تو وہ اسے وصول نہیں کرےگا کیونکہ ٹرافی کوسپانسر کرنے والی کمپنی اسلامی لحاظ سے ناجائز کاروبار سے منافع حاصل کرتی ہے۔ سعودی فٹبال فیڈریشن کے عبداللہ الدبیل نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئےکہا کہ ’اس ٹرافی کو سپانسر کرنے والی کمپنی شراب کے کاروبار میں ملوث ہے اور دیا جانے والا کپ بئر (شراب) کے کپ سے مشابہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہم اس اعزاز کو مذہبی وجوہات کی بنا پر قبول نہیں کرسکتے اور کوئی بھی مسلمان اس ٹرافی کو وصول نہیں کرسکتا‘۔ اس بات کی سب سے پہلی اطلاع سعودی ٹی وی پر دی گئی تھی اور بعد ازاں سعودی فٹبال کے حکام نے اس کی تصدیق کردی۔ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا اس وقت بڑی شرمندگی سے بچ گئی جب تیونس اور سعودی عرب کے درمیان بدھ کو ہونے والا میچ اسوقت برابری پر ختم ہوا جب کھیل کے آخری لمحوں میں تیونس کے کھلاڑی نے سعودی عرب کے خلاف دوسرا گول کر کے میچ برابر کردیا اور فیفا نے مین آف میچ کا اعزاز تیونسی کھلاڑی ذیاد جزیری کو دیا۔ اگر آخری لمحوں یہ گول نہ ہوتا اور سعودی عرب یہ میچ جیت جاتا تو پھر یہ اعزاز کسی سعودی کھلاڑی کو دینا پڑتا تو پھر فیفا کےلیئے فیصلہ دشوار ہوتا لیکن اب بھی سعودی عرب کے میچ باقی ہیں اور دیکھنا یہ ہے کے فیفا اس مرحلہ سے کس طرح نکلتی ہے۔ سعودی عرب جہاں اسلامی تعلیمات کے پیش نظر شراب پر قانونی پابندی ہے وہیں سعودی حکام کی درخواست پر جرمنی کے ہوٹل میں جہاں ان کی فٹبال ٹیم ٹھہری ہوئی ہے وہاں سے نہ صرف کہ شراب کی ممانعت کردی گئی ہے بلکہ وہاں فحش فلموں پر بھی عارضی بندش لگا دی گئی ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان فٹبال ٹیم ڈھاکہ جائے گی15 March, 2006 | کھیل فیفا: پاک وومن فٹبالرز پر فلم22 May, 2006 | کھیل فٹبال عالمی کپ، ورچوئل ری پلے11 June, 2006 | کھیل فٹبال عالمی کپ کا چوتھا دن12 June, 2006 | کھیل فٹبال عالمی کپ کا پانچواں دن13 June, 2006 | کھیل فٹبال عالمی کپ کا چھٹا دن14 June, 2006 | کھیل فٹبال عالمی کپ کا ساتواں دن15 June, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||