فلسطینی فٹبال کی مشکلات پر فلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی فٹبال ٹیم کی تشکیل، تربیت اور عالمی کپ کے لئیے کوالیفائی کرنے کی ناکام کوششوں کے بارے میں بننے والی فلم ’ورلڈ کپ انشااللہ‘ کو آج یعنی جمعرات آٹھ جون کو لندن میں نمائش کے لیئے پیش کیا جا رہا ہے۔ فٹبال کے عالمی کپ میں شرکت کے لئیے کوشش کرنے والی دیگر تمام بین الاقوامی ٹیموں کے مقابلے میں فلسطین کی قومی ٹیم کے مسائل ذرا مختلف قسم کے ہیں۔ مقبوضہ علاقوں، لبنان، کویت، چلی اور امریکہ کے رہائشی کھلاڑیوں پر مشتمل فلسطینی ٹیم کو’فیفا‘نے سنہ 1996 میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا اور یہ ٹیم اب تک کسی اہم بین لاقوامی ٹورنامنٹ کے لیئے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ’ورلڈ کپ انشااللہ‘ کی ہدایتکار مایا سنبار کا کہنا ہے کہ’ کھیل ہی وہ واحد شعبہ ہے جس میں سرکاری طور پر’فلسطین‘ کا نام لیا جاتا ہے۔ فٹبال اور اولمپکس میں ہی آپ فلسطین کا نام سنتے ہیں ورنہ اقوامِ متحدہ تک میں اسے ’فلسطینی اتھارٹی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے‘۔ مایا سنبار کے مطابق انہوں نے فلسطینی فٹبال ٹیم پر فلم بنانے کا فیصلہ ٹیم کی کہانی سنانے اور یہ بتانے کے لیئے کیا کہ اس ٹیم میں مختلف قسم کے فلسطینی کس طرح ایک ساتھ کھیلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ان کا خیال تھا کہ اس فلم میں سیاست کا عمل دخل نہیں ہوگا تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ مایا کہتی ہیں کہ’ جب آپ فلسطین کے بارے میں کچھ بھی کرتے ہیں تو آپ سیاست سے دور نہیں رہ سکتے۔ یہ ہمیشہ کسی نہ کسی طریقے سے سیاست سے جڑاہوتا ہے‘۔
امریکی نژاد فلسطینی کھلاڑی مراد فرید کا کہنا ہے کہ’ صرف فٹبال کے کھیل پر توجہ دینا بہت مشکل ہے۔ آپ اس کی کوشش تو کرتے ہیں مگر آپ کے اردگرد ہمیشہ بہت کچھ ہو رہا ہوتا ہے‘۔ مراد جیسے کھلاڑیوں کو فلسطینی قومی ٹیم میں شمولیت سے یہ موقع ملا ہے کہ وہ اس ماحول میں رہ سکیں جس کے بارے میں انہوں نے اپنے والدین سے صرف سنا ہی تھا۔ فلم میں فلسطینی ٹیم کے کھلاڑیوں کو درپیش مشکلات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح غزہ سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ مصر میں تربیت حاصل کرنے کے لیئے ہفتوں رفاہ کی سرحد کھلنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ فلم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک قومی ٹیم کس طرح اپنا ’ذاتی میدان‘ نہ ہونے کی وجہ سے’ہوم میچ‘ قطر کے ایک خالی سٹیڈیم میں کھیلتی ہے۔ فلم میں کھلاڑیوں کی میدان سے باہر کی زندگی کے بارے میں بھی ذکر کیا گیا ہے اور ایک منظر میں غزہ سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی بتاتے ہیں کس طرح ان کے پانچ دوست اسرائیل کے فضائی حملے میں مارے گئے۔ لندن میں’ورلڈ کپ انشااللہ‘ کی نمائش کے ساتھ ہی اس فلم کا ’فیچرفلم ورژن‘ امریکی شہر نیوآرلینز میں’گول ڈریمز‘ کے نام سے دکھایا جائے گا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اسے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے تعمیر کردہ حفاظتی دیوار پر بھی بذریعہ پروجیکٹر دکھایا جائے گا۔ | اسی بارے میں رونی’انجری فری‘ ہیں: ایرکسن08 June, 2006 | کھیل پاکستان میں ورلڈ کپ کا بخار 07 June, 2006 | کھیل عالمی کپ کے کلاسیک گول سکورر01 June, 2006 | کھیل صرف کاکا ہی قربانی کیوں دے؟29 May, 2006 | کھیل فیفا: پاک وومن فٹبالرز پر فلم22 May, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||