BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 May, 2006, 15:56 GMT 20:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
2011 ورلڈ کپ ایک چیلنج

شہریار خان
’کوشش ہوگی کہ ورلڈ کپ فائنل پاکستان میں ہی کروایا جائے‘
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان نے 2011 کے ورلڈ کپ کے انعقاد کو پاکستان کے لیئے ایک چیلنج قرار دیا۔

آئی سی سی کے دبئی کے اجلاس میں شرکت کے بعد لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہر یار خان نے کہا کہ پاکستان کو دوہرا اعزاز ملا ہے، ’کیونکہ ہمیں نہ صرف 2011 کے ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی ملی ہے بلکہ 2008 کی چمپیئنز ٹرافی کی میزبانی بھی مل گئی ہے‘۔

شہر یار خان نے کہا کہ ’اب یہ ہمارے لیئے ایک چیلنج ہے اور ہمیں بہت کام کرنا ہے اور ہماری کوشش ہو گی کہ یہ اب تک ہونے والے تمام عالمی کپ مقابلوں سے بہتر ہو‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں نہ صرف سٹیڈیم بہتر بنانے کی ضرورت ہے بلکہ عالمی کپ کے لیئے ایک مکمل سازگار ماحول بنانا ہے جن میں سڑکوں اور ہوٹلوں کو بہتر بنانا بھی شامل ہے اور اس میں بڑے شہروں کی ضلعی انتظامیہ کی مدد لی جائے گی‘۔

شہر یار خان نے کہا کہ عالمی کپ 2011 کے فائنل میچ کے لیئے جگہ کا تعین اور تفصیلات طے کرنے کے لیئے چاروں ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو ان تمام مسائل پر تجاویز دے گی لیکن ہماری کوشش ہے کہ فائنل پاکستان ہی میں کروایا جائے‘۔

شہر یار خان نے کہا ’یہ میزبانی ہمیں میرٹ پر ملی ہے اور ہمیں تین کے مقابلے میں سات اراکین نے ووٹ ڈالے جبکہ تین ایسوسی ایٹ ممالک ملائیشیا، یو اے ای اور اسرائیل نے بھی ہمیں ووٹ دیئے‘۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ ویسٹ انڈیز کا ووٹ کافی اہم تھا لیکن انہوں نے اس تاثر کو مکمل طور پر رد کر دیا کہ ویسٹ انڈیز کا ووٹ حاصل کرنے کے لیئے ایشیا نے ویسٹ انڈیز کو کسی مالی مدد کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ہمیں ان ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے سبب بھی ملی ہے۔

شہر یار خان نے کہا کہ فروری اور مارچ میں ہمارے خطے میں کم بارشیں ہوتی ہیں اور اس لیے امکان ہے کہ عالمی کپ 2011 اور چمپیئنز ٹرافی 2008 فروری اور مارچ میں منعقد کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی اور لاہور کے سٹیڈیم میں دس سے پندرہ ہزار تک نشستیں بڑھائی جائیں گی اور یہ تمام کام 2008 کو ذہن میں رکھ کر کیا جائے گا۔

پی سی بی کے چیئرمین نے کہا کہ اتنے بڑے بڑے ایونٹس منعقد کرنے کے کافی ضمنی اثرات مرتب ہوں گے اور کرکٹ کو بہت ترقی ملے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد