BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 April, 2006, 11:51 GMT 16:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرکٹ: ماضی کے سٹار ابو ظہبی میں

 سٹارز ابوظہبی
منظور الہی اور منوج پربھاکر
قومی اور اے کرکٹ ٹیموں کے بعد اب ماضی کے کرکٹ سٹارز ابوظہبی کرکٹ میں بھی نظر آئیں گے۔

پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی بھارتی سیئنر کرکٹ ٹیم کے ساتھ آئے بھارتی ویٹرن کرکٹ بورڈ کے صدر چیتن چوہان کا کہنا ہے بھارت، پاکستان اور سری لنکا کی سینئر کرکٹ ٹیموں کے درمیان سہ فریقی کرکٹ سیریز ابوظہبی میں کروائی جائے گی۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے صدر چیتن چوہان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے سینئر کھلاڑیوں کے درمیان ایک دوسرے کے ملک میں ہر سال چار میچوں کی سیریز مستقل بنیادوں پر کھیلی جائے گی۔

چیتن چوہان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس سیریز سے سینئر کرکٹ کو مقبولیت ملی ہے اور ماضی کے کئی سٹارز نے ہم سے رابطہ کیا کہ وہ بھی کھیلنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر سینئر کرکٹ مسلسل ہوتی رہی تو مزید مقبول ہو گی۔

بھارتی سینئر کرکٹ ٹیم کے رکن وکٹ کیپر بیٹسمین سید کرمانی نے کہا کہ موجودہ قومی ٹیم کے رکن ہونے اور سینئر ٹیم کے رکن ہونے میں بہت فرق ہے۔ بھارتی ٹیم کے ساتھ 1984 میں پاکستان کا دورے کرنے والے سید کرمانی نے کہا کہ جو پذیرائی موجودہ ٹیم کو ملتی ہے وہ سینئر ٹیم کو نہیں ملتی جب کہ اس ٹیم میں وہ کھلاڑی ہوتے ہیں جو اپنے دور میں سٹار کھلاڑی رہ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ لوگ ہمارے نام بھول چکے ہیں لیکن ہم نے یہ سیریز مقابلے کی مکمل روح کے ساتھ کھیلی ہے اور اس سیریز میں اسی طرح مقابلہ کیا جیسا کہ ہم قومی ٹیم کے رکن بن کر کرتے تھے۔

سید کرمانی نے بھی امید ظاہر کی کہ اگر یہ سینئر کرکٹ بھی زیادہ سے زیادہ ہو تو لوگوں کو یہ بھولے بسرے نام پھر یاد آ جائیں گے اور یہ کرکٹ بھی مقبول ہو گی۔

1989 میں بھارتی ٹیم کے ساتھ آنے والے کھلاڑی منوج پربھاکر نے کہا کہ ’وہ سترہ سال بعد آئے ہیں اور انہیں کافی تبدیلی محسوس ہوئی ہے۔ کچھ تو نئی نسل کو ہمارے نام یاد نہیں اور ہمیں شائقین کرکٹ سے بہت پذیرائی نہیں ملی اور ہمیں اس کی امید بھی نہیں تھی کیونکہ ایسا تو سب کے ساتھ ہوتا ہے‘۔

منوج پربھاکر نے کہا کہ اتنے سال کے بعد پاکستان آ کر انہیں خوشی ہوئی اور انہیں یہاں کافی ترقی نظر آئی۔

منوج پربھاکر کی بیگم فرحین کو بھی پاکستان بہت پسند آیا انہیں کرکٹ کا کوئی خاص شوق نہیں لیکن وہ پاکستان دیکھنے کے شوق میں یہاں آئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد