ون ڈے رولزختم کریں: پونٹنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے کرکٹ کپتان رکی پونٹنگ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک روزہ میچوں کے تجرباتی قوانین کو اگلے سال کے عالمی کپ سے پہلے ختم کیا جائے۔ واضح رہے کہ سپرسب اور پاور پلے کے تـجرباتی قوانین اس سال مارچ تک لاگو رہیں گے جس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی ایک کمیٹی ان کا جائزہ لے گی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رکی پونٹنگ نے کہا کہ ان کے خیال میں ان تجرباتی قوانین سے پہلے والے دور میں جانے سے کوئی نقصان نہیں ہونے والا۔ ان کا کہنا تھا ’ ہم تجرباتی قوانین کو بہتر بنانے کی ہر کوشش کریں گے لیکن عالمی کپ کے لیے میں چاہوں گا کہ ہم گیارہ بمقابلہ گیارہ کھلاڑی والے فارمولے کو ہی اپنائے رکھیں۔‘ یاد رہے کہ سپرسب کے قانون کے تحت ٹیموں کو کسی بھی کھلاڑی کی جگہ بارہویں کھلاڑی کو کھلانے کی اجازت ہوتی ہے اور اس قانون کے تحت بارہواں کھلاڑی نہ صرف فیلڈنگ بلکہ بیٹنگ اور بالنگ بھی کر سکتا ہے۔ پونٹنگ کے برعکس زیادہ تر دوسرے کپتان سپر سب کے قانون میں تبدیلی کے حامی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ کسی بھی ٹیم کو اس بات کا فیصلہ ہونے تک کہ وہ پہلے بیٹنگ کرے گی یا بالنگ سپر سب کی نامزدگی کی اجازت ہونا چاہیے۔ اگرچہ ایک روزہ میچوں میں ٹاس زیادہ اہمیت کا حامل نہیں رہا ہے لیکن گزشتہ سال جولائی میں تجرباتی قوانین کے اطلاق کے بعد اس کی اہمیت اور بھی کم ہو گئی ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ وی بی سیریز میں آسٹریلیا کی کامیابی کا تناسب 76.5 فیصد ہے لیکن اگر اس کو اس لحاظ سے دیکھا جائے کہ ٹاس جیتنے کے بعد آسٹریلیا نے کتنے میچ جیتے ہیں تو یہ تناسب 90 فیصد ہو جاتا ہے۔ اسی طرح تجرباتی قوانین کے اطلاق کے بعد انگلینڈ نے صرف تین ایک روزہ میچ جیتے ہیں اور ان سب میں اس نے ٹاس جیتا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں پونٹنگ نے کہا کہ موجودہ شکل میں سپر سب کا قانون اس ٹیم کے لیے بےکار ہو جاتا ہے جو سپر سب کے طور پر کوئی آل راؤنڈر نامزد نہیں کرتی۔ اس سلسے میں انہوں نے سری لنکا کے خلاف پرتھ میں کھیلے جانے والے حالیہ ایک روزہ میچ کا حوالہ دیا جس میں آسٹریلیا کے سپر سب بریٹ ڈوری تھے جو کہ ایک بالر ہیں۔ ’ہم ٹاس ہار گئے اور ہمیں پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی گئی، جس کا مطلب یہ تھا ہمارے لیے اب بریٹ ڈوری کا کوئی استعمال نہیں تھا۔ وہ ٹیم سے باہر ہو گئے اور ہم عملی طور پر سری لنکا کے بارہ کھلاڑیوں کے مقابلے میں گیارہ سے کھیل رہے تھے۔‘ سپر سب کے علاوہ پونٹنگ پاور پلے سے متعلق تجرباتی قوانین کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں۔ پاور پلے کے تجرباتی قانون کے تحت فیلڈنگ کرنے والی ٹیم پر لازم ہے کہ وہ پہلے دس اوورز کے بعد پانچ پانچ اوورز کے دو حصوں میں کم از کم نو کھلاڑی دائرے کے اندر رکھے۔ ماضی میں یہ پابندی صرف پہلے پندرہ اوورز کے لیے ہوتی تھی۔ رکی پونٹنگ کے مطابق ہم پاور پلے کومختلف طریقوں سے استعمال کر چکے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے فیلڈنگ کے دوران آپ کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ جلد سے جلد ان اوورز سے جان چھڑائی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس قانون کا مقصد بھی فوت ہو چکا ہے کیونکہ اس کے پیچھے یہ سوچ کار فرما تھی کہ چونکہ پندرھویں اور چالیسویں اوورز کے درمیان کھیل بورنگ ہو جاتا ہے اس لیے اس پابندی سے اسے دلچسپ بنایا جا سکتا ہے۔ پاور پلے کے قانون کو مفید بنانے کے لیے پونٹنگ کا مشورہ ہے یہ بہتر ہوگا اگر پاور پلے کے اوورز کا فیصلہ دونوں کپتان مشورے سے کریں۔ ’ موجودہ حالت میں بیٹنگ سائیڈ کا کوئی عمل دخل نہیں اس لیے پاور پلے کے قانون کو بھی عالمی مقابلوں سے پہلے ختم کر دیا جانا چاہیے یا اسے بہتر بنایا جائے۔‘ | اسی بارے میں نئے قوانین کپتانوں کے لیے چیلنج29 June, 2005 | کھیل سپرسیریز پر آئی سی سی اجلاس03 February, 2005 | کھیل آسٹریلوی بلے بازوں کو جرمانہ29 August, 2005 | کھیل پونٹنگ کے بلے میں کیا ہے؟22 April, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||