دھونی کی اننگز بہترین : ڈراوڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ٹیم کے کپتان راہول ڈراوڈ نےفیصل آباد ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کے کھیل کے بعد کہا کہ وہ اپنی ٹیم کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ کی مخالف ٹیم نے سکور بورڈ پر پانچ سو اٹھاسی رنز لگا رکھے ہوں تو آپ کی ٹیم پر دباؤ ہوتا ہے لیکن ہماری ٹیم نے جس طرح ان حالات میں بیٹنگ کی اور اچھا سکور کیا میں اس سے بہت خوش ہوں۔ راہول ڈراوڈ نے خاص طور پر مہندر سنگھ دھونی کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ان کی اننگز کا شمار بہترین اننگز میں کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے ایسے حالات میں کہ جب ہمارا سکور پانچ کھلاڑیوں پردو سو اکاسی تھا ٹیم کو سنبھالا دیا اور نہ صرف پاکستانی بالروں کو جارحانہ انداز سے کھیلا بلکہ جہاں ضرورت پڑی ذمہ داری سے بھی بیٹنگ کی۔ انہوں نے اپنی اور لکشمن کے درمیان بننے والی شراکت داری کی بھی تعریف کی اور کہا کہ اس وقت جب مخالف ٹیم کا سکور زیادہ ہو تو اپنی ٹیم کے حواس بحال کرنے کے لیے ایسی شراکت داری کی ضرورت ہوتی ہے لیکن میں چاہتا تھا کہ ہم پرانے گیند کو کھیل لیں مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا لیکن بعد میں دھونی اور عرفان پٹھان نے نئی گیند کے خلاف کافی اعتماد سے بیٹنگ کی۔ میچ کے تیسرے دن چائے کے وقفے کے بعد جب پاکستانی بالرز عرفان پٹھان اور دھونی کو آؤٹ کرنے میں ناکام رہے تو ان کی جانب سے تیز اور تلخ جملے کسے گئے جس پر ایمپائر روڈی کرٹزن نے یونس خان کو بلا کر تنبیہ کی۔ راہول ڈراوڈ نے اس واقعے پر کہا کہ اس کو بڑا ایشو نہیں بنانا چاہیے کیونکہ اس سے کھیل کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے یوراج کے جلد آؤٹ ہونے کا دفاع کیا اور کہا کہ وہ بہت بہترین کھلاڑی ہے اور کبھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے۔ راہول نے بتایا کہ اتوار کی رات سہواگ کی طبعیت خراب ہو گئی تھی انہیں بخار تھا اور قے بھی آئی لیکن اب وہ ٹھیک ہیں۔ پاکستان کی ٹیم کے کوچ باب وولمرنے کہا کہ یہ میچ ڈرا کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ ابھی بھی یہ وکٹ سیدھی ہے اور اچھا کھیل رہی ہے۔ باب وولمر نے کہا کہ دھونی اور عرفان پٹھان نے اچھا کھیل پیش کیا اور ہمارے بالر اس وقت زیادہ سمجھداری اور پلانگ سے بیٹنگ نہیں کر سکے جس کی وجہ سے بھارتی ٹیم بھی کافی اچھا سکور بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ باب وولمر نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ کل صبح جلد ان دونوں کو آؤٹ کر لیا جائے۔ باب وولمر نے تسلیم کیا کہ انضمام کی بیماری اور شعیب ملک کے جانے سے ہماری ٹیم کے پاس دوسری انگز کے لیے نو بیٹس مین رہ گئے ہیں انہوں نے کہا کہ اگرٹیم کو ضرورت پڑی تو انضمام بیٹنگ کے لیے آئیں گے۔ باب کے مطابق شعیب ملک کو سیالکوٹ سے بلانا درست نہیں ہو گا۔ | اسی بارے میں دھونی اور پٹھان کی عمدہ بیٹنگ23 January, 2006 | کھیل کارکردگی قابلِ اطمینان رہی: یونس21 January, 2006 | کھیل ’ کوکا بورا بال‘ سے وکٹ لینا مشکل ہے22 January, 2006 | کھیل بھارتی بلے بازوں کی پراعتماد بیٹنگ22 January, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||