وسیم اکرم کی ’دیوانی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچاس سال کی کرشنا دیوی پاکستان کے سابق آل راونڈر وسیم اکرم کے عشق میں گرفتار ہیں- دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کی ماں کرشنا دیوی ایک سرکاری محکمے میں کلرک کے طور پر کام کرتی ہیں۔
مدھیہ پردیش کے شہر برہان پور کی رہنے والی کرشنا دیوی نے 1999 کے عالمی کپ کے دوران پہلی بار وسیم اکرم کو ٹی وی پر دیکھا اور ’ان کی آنکھیں جمی کی جمی رہ گئیں‘۔ پھر وہی ہوا جو اس کیفیت میں ہوتا ہے۔ ’دن بھر کھوئے کھوئے رہنا، کسی کام میں دل نہ لگنا‘ وسیم کو ہر وقت دیکھنے کے لیے انہوں نے کرکٹ میچ دیکھنے شروع کیے اور پابندی سے کھیل کود سے متعلق رسالے اور اخبارات پڑھنے لگیں-
ان کے بڑے بیٹے اتل اوئکے ایک پرائمری اسکول میں ٹیچر ہیں اور اس صورتحال سے کافی پریشان ہیں ’پہلے تو ہم نے اسے مذاق میں ٹال دیا جب ممی نے ہمیں کہا کہ وسیم اکرم تمہارے ’دھرم پتا‘ ہیں لیکن اب اس کی پبلیسٹی کے بعد بہت عجیب سا لگتا ہے‘۔ کرشنا دیوی کے شوہر چھوٹے لال اوئکے نے ان باتوں پر کئی سال پہلے اعتراض کیا تھالیکن کرشنا دیوی نے اپنی چوڑیاں توڑ دیں اور اپنی مانگ کا سِندور مٹا دیا۔
کرشنا دیوی اپنے پیار کو پوجا بتاتی ہیں۔ ایک ماہر نفسیا ت فرح انصاری اس کیفیت کو کرشنا کی کم عمری کے دنوں میں دبائے گئے جنسی جذبات سے مسنوب کرتی ہیں۔ ’ہندوستانی معاشرے میں کسی عورت کے جنسی جذبات کا اظہار بہت معیوب بات سمجھی جاتی ہے اور تیس چالیس برس قبل تو یہ تصور بھی گناہ کے مانند تھا۔‘ کرشنا وسیم اکرم سے کبھی نہیں ملی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس کا پیار سچا ہے تو وسیم ایک نہ ایک دن اس کے پاس ضرور آئیں گے۔ | اسی بارے میں برطانوی میڈیامعافی مانگے: وسیم 15 September, 2005 | کھیل وقار اور وسیم کے بعد کی تیز بولنگ28 October, 2005 | کھیل وسیم اکرم کے خلاف مقدمہ ختم 24 May, 2005 | کھیل پی سی بی نے رابط نہیں کیا: وسیم21 February, 2005 | کھیل ’شعیب کے بغیر مشکلات ہونگی‘07 May, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||