خواتین کرکٹرز جگہ بنا پائیں گی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کی خواتین کرکٹ ٹیم اس سال عالمی کپ کے فائنل میں پہنچ گئی تھی لیکن اس کے باوجود بھارت میں اب بھی کرکٹ کو مردوں کا کھیل سمجھا جاتا ہے اور اس میں خواتین کے کردار کو تسلیم کرنے کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کامیابی کے باوجود ملک کے اندر قومی ٹیم کے وقار بڑھانے یا زیادہ سے زیادہ لڑکیوں کو کھیل کی طرف راغب کرنے کے لیے فنڈز مہیا کرنے کے سلسے میں بہت کم کام کیا جا رہا ہے۔ وومن کرکٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا کی سیکریٹری شبھنگی کلکرنی کے مطابق ابھی بہت سفر باقی ہے تاہم ان کے ادارے کے کرکٹ بورڈ میں ضم ہونے کے امکانات کی وجہ سے وہ پر امید ہیں۔ ’ماضی کی نسبت اب خواتین کی کرکٹ کی شناخت میں بہتری آئی ہے لیکن یہ اس سے بہت کم ہے جس کی حقدار خواتین کی ٹیم ہے۔‘ کلکرنی کا کہنا ہے کہ جب خواتین کی کرکٹ کی بات ہوتی ہے تو اکثر جواب ہوتا ہے ’ ہُوں۔۔ عورتوں کی کرکٹ۔‘ ان کے مطابق کرکٹ کھیلنے کی خواہش مند لڑکیوں کو زیادہ معاشرتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مثلاً اگر بیٹا کرکٹ کا بلا مانگتا ہے تو یقیناً والدین اسے بلا لا دیں گے لیکن اگر یہی بات بیٹی کہتی ہے تو اسے بیڈ منٹن یا ٹینس کا ریکٹ خرید دیا جاتا ہے۔ قطع نظر اس کے آج کل خواتین کی ٹیم ہر سال ایک سیریز کھیل لیتی ہے۔ انڈیا کی مڈل آرڈر کی بلے باز انجم چوپڑا کے خیال میں یہی وجہ ہے کہ گراؤنڈ میں ٹیم کی کارگردگی میں بہتری آ رہی ہے۔ ’اس کے علاوہ کچھ بدلا ہے؟ میرا خیال ہے کچھ نہیں کیونکہ ہم لڑکیوں کے لیے کرکٹ کھیلنا ایک جد وجہد سے کم نہیں۔‘
انجم چوپڑا کے مطابق بھارت میں لڑکیوں کو کرکٹ کھیلنے کا موقع کالج پہنچ کر ملتا ہے اور وہ کالج کے سال ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ٹیم میں کھیلنے کے ساتھ ساتھ انجم چوپڑا نے ایک اور میدان میں بھی مردوں کی اجارہ داری کو توڑا ہے، اور وہ ہے ٹی وی پر مردوں کے میچوں پر ماہرانہ تبصرہ۔ کلکرنی کے مطابق ’ کون سوچ سکتا تھا کہ ایک بھارتی خاتون کرکٹر مرد ماہرین کے ساتھ ٹی وی پر مردوں کے ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کا تجزیہ کرے گی، لیکن انجم نے حال ہی میں یہ مرحلہ بھی عبور کر لیا۔‘ تجویز کے سامنے آنے کے دو سال بعد اب خوتین کی کرکٹ ایسوسی ایشن کے ملک کے کرکٹ کنٹرول بورڈ میں ضم ہونے کی بات بنتی نظر آتی ہے جس کا مطلب ہے کہ بھارت میں خواتین کرکٹرز کی شناخت ہو رہی ہے لیکن آہستہ آہستہ۔ | اسی بارے میں انڈیا میں عورتیں چھا گئیں07 July, 2004 | انڈیا پنجاب:لڑکیوں سے امتیازی سلوک16 November, 2004 | انڈیا بھارتی خواتین نشانے بازی میں13 April, 2005 | انڈیا ’پولیس کی پہلی خاتون سربراہ‘17 June, 2004 | انڈیا جادو ٹونا نہیں چلے گا18 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||