BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک انگلینڈ سیریز: رہائشی دشواریاں

انگلینڈ اور پاکستان
چھوٹے شہروں میں بھی اچھے ہوٹل ہیں لیکن ان میں زیادہ گنجائش نہیں ہوتی
ایشیز میں کامیابی کے بعد انگلینڈ کے شائقین کی پاکستان کے ساتھ ہونے والی سیریز سے دلچسپی میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ ان شائقین کی بڑی تعداد پاکستان آئے گی ۔

کراچی لاہور اور راولپنڈی اسلام آباد میں فائیو اسٹار اور دیگر بڑے ہوٹلز کی موجودگی میں رہائش کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں رہے گا لیکن فیصل آباد اور ملتان میں معیاری ہوٹلوں کی کمی کے نتیجے میں رہائش کا مسئلہ شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

ملتان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے ٹیسٹ کی بارہ سے سولہ نومبر تک میزبانی کررہا ہے جبکہ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ فیصل آباد میں بیس سے چوبیس نومبر تک کھیلا جائے گا۔

ملتان میں کوئی فائیو اسٹار ہوٹل نہیں ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ آئی سی سی نے انٹرنیشنل میچ کے کسی بھی شہر میں انعقاد کو وہاں فائیو اسٹار ہوٹل کی موجودگی سے مشروط کررکھا ہے۔

ملتان میں ٹیموں۔ آئی سی سی آفیشلز۔ ٹی وی کریو اور کرکٹ بورڈ کے مہمانوں کو عام طور پر شہر کے واحد چار ستارہ ہوٹل میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے افسران ملتان پہنچ کر دیگر چھوٹے ہوٹلز کے کمرے بھی قابو میں کرنے میں مصروف رہے ہیں جہاں وہ انگلینڈ سے آنے والے شائقین اور دیگر افراد کو ٹھہرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اگر آپ ملتان جاکر میچ دیکھنے یہانتک کہ کوریج کا ارادہ رکھتے ہیں تو ہوٹلوں سے یہ جواب سننے کو مل رہا ہے کہ کمرہ دستیاب نہیں ہے۔

یہی صورتحال فیصل آباد کی ہے جہاں ایک فائیو اسٹار ہوٹل ہے لیکن چونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس سیریز کو اپنے اور ملک کے امیج کو بلند کرنے کے لئے بہت اہمیت دیئے ہوئے ہے اور بڑی تعداد میں وی آئی پی مہمانوں کو مدعو کرنے کے موڈ میں ہے لہذا اس نے اپنے مہمانوں کو تکلیف سے بچانے کے لئے دو ماہ پہلے ہی شہر کے ایک مشہور کلب کے تمام کمرے مقامی انتظامیہ کی مدد سے بک کرالئے ہیں اور اب وہاں کوئی کمرہ کسی ممبر کے توسط سے بھی نہیں مل سکتا۔

ملتان اور فیصل آباد کے درمیانے درجے کے ہوٹلز کا یہ حال ہے کہ ان کے مالکان مقامی افراد کی ہفتوں پہلے کی گئی ریزرویشن کو غیرملکی مہمانوں کی آخری لمحات پر آمد کے بعد منسوخ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ پاؤنڈ اور ڈالر پاکستانی روپے سے زیادہ طاقتور ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد