پیٹرسن کو روکنا چاہیے تھا: پولاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شان پولاک نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے ملک سے آئندہ کوئی نوجوان کھلاڑی کسی دوسرے ملک کی ٹیم میں شامل نہیں ہوگا جیسا کہ کیون پیٹرسن نے کیا۔ پولاک نے کہا کہ ہر فرد کو ذاتی فیصلے کرنے کا اختیار ہے لیکن ان کے لیے یہ بات تشویشناک ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ اچھے نوجوان کھلاڑی ملک چھوڑنا شروع کر دیں۔ پولاک اور پیٹرسن جمعرات کو آسٹریلیا کے خلاف ہونے والے میچ میں ورلڈ الیون کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے وہ جنوبی افریقہ میں ایک کلب کی طرف سے اکٹھے کھیل چکے ہیں۔ کیون پیٹرسن جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کی بنیاد پر رائج کوٹہ سسٹم سے مایوس ہو کر برطانیہ چلے آئے تھے۔ پیٹرسن نے انگلینڈ میں نوٹنگہم شائر کاؤنٹی کی طرف سے کھیلنا شروع کیا اور برطانوی شہریت کے تقاضے پورے ہونے کے بعد انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم میں شامل ہو گئے۔ پیٹرسن نے اپنے بین الاقوامی کیریر کا آغاز جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ میچوں سے کیا۔ پولاک نے کہا کہ پیٹرسن جنوبی افریقہ میں کلب کی طرف سے کھیلتے ہوئے کافی نیچے بیٹنگ کرتے تھے اور کسی حد تک اچھی آف سپن بالنگ کر لیتے تھے۔ پولاک نے کہا کہ انہوں نے پیٹرسن کو انگلینڈ جانے سے روکنا چاہا اور کرکٹ بورڈ کے سربراہ سے ملاقات کی کوشش بھی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرسن ٹیم میں اپنی جگہ کی ضمانت چاہتے تھے لیکن کرکٹ بورڈ ایسا نہیں کرسکتا تھا۔ پولاک نے کہا کہ اگر انہیں پیٹرسن کے معیار کے بارے میں معلوم ہوتا تو وہ انہیں روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ پولاک پیٹرسن سے ناراض نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرسن نے سخت محنت اور کارکردگی سے اپنا فیصلہ درست ثابت کیا ہے۔ ’میں چاہوں گا کہ پیٹرسن میری ٹیم میں شامل ہوں نہ کہ میرے مخالف‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||