فیڈرر اور ڈیونپورٹ فائنلز میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ومبیلڈن چیمپئن راجر فیڈرر اپنے اعزاز کا دفاع کرتے ہوئے عالمی نمبر دو لیٹن ہیوٹ کو سیمی فائنل میں ہرا کر مسلسل تیسری مرتبہ ومبیلڈن کے فائنل میں پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے سیمی فائنل میں ہیوٹ کو 3۔6، 4۔6، 6۔7، (4۔7) سے ہرایا۔ میچ کے بعد فیڈرر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ میں نے یہ اتنے آرام سے کر لیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میں تیسری مرتبہ فائنل میں پہنچنے پر بہت خوش ہوں۔ یہ زبردست ہے۔ یقیناً میں آج رات کو آرام سے سو سکوں گا‘۔ اس سے قبل کھیلے جانے والے اپنے بیس فائنل مقابلے جیتنے والے فیڈرر نے کہا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ اتوار کو میرا ریکارڈ میرے ہاتھ سے نہیں نکلے گا‘۔
ہیوٹ نے فیڈرر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فیڈرر ایک بہتر کھلاڑی ہیں‘۔ دوسری طرف امریکہ کی لِنڈسے ڈیونپورٹ نے فرانس کی ایملیو موریسمو کو ہرا کر عورتوں کا سیمی فائنل جیت لیا ہے۔ انہوں نے یہ مقابلہ 7۔6، (7۔5)، 6۔7، (4۔7)، اور 3۔5 سے جیتا۔ اب فائنل میں ان کا مقابلہ اپنی ہم وطن وینس ولیمز سے ہو گا۔ سن 2000 کے ومبیلڈن فائنل میں بھی وینس کا مقابلہ ڈیونپورٹ سے ہوا تھا جو ولیمز نے سیدھے سیٹس میں جیت لیا تھا۔ میچ کے بعد ڈیونپورٹ نے کہا کہ موریسمو میچ میں بہتر کھیلیں۔ ’میں تو ایک سٹیج پر بس کھیل ہی رہی تھی‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک ٹف میچ تھا اور موریسمو ’گراس کورٹ کی ایک اچھی کھلاڑی ہیں‘۔ موریسمو نے سیمی فائنل اپنے ہاتھ سے نکل جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت مایوس کن ہے۔ مجھے واقعی یہ محسوس ہو رہا تھا کہ میں جیت سکتی ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ انہوں اتنی اچھی سروسز نہیں کیں اور یہی چیز ان کے حق میں بری ثابت ہوئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||