فیڈرر،روڈک ایک بار پھر آمنے سامنے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اینڈی روڈک اپنے حریف تھامس جانسن کو ہرا کر ویمبیلڈن چیمپئن کے فائنل میں راجر فیڈرر کے آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ راجر فیڈرر جو موجودہ ویمبلڈن چمپئین ہیں، پہلے ہی فائنل میں پہنچ چکے ہیں ۔ اینڈی روڈک اور تھامس جانسن کا میچ جعمہ کو بارش کی وجہ سے ملتوی کر دیا تھا۔ سنیچر کو ختم ہونے والے میچ میں اینڈی روڈک نے تھامس جانسن کو 7-6‘(8-6) 2-6 (6-7(10-12) 6-7 ،(5-7) سے ہرا کر فائنل میں پہنچ گئے۔ اینڈی روڈک میچ کے شروع میں ہی تھامس جانسن کی سروس بریک کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ پچھلے سال بھی ویمبلڈن فائنل اینڈی روڈک اور راجر فیڈرر کے درمیان کھیلا گیا تھا جس میں راجر فیڈر کامیاب رہے تھے۔ میچ کے بعد اینڈی روڈک نے اپنی فتح کو خوش قسمتی سے تعبیر کیا اور اور کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ اس میچ میں جیت گئے ہیں۔ اینڈی روڈک نے کہا تھامس جانسن نے اتنا اچھا کھیل رہا تھا کہ اس سے جیتنے کے لیے انہیں بہت محنت کرنی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے سیٹ میں نیٹ سے بال لگ جانے کی وجہ سے وہ ٹائی بریک کرنے میں کامیاب ہوئے اور یہ ان کی خوش قسمتی تھی۔ اینڈی روڈک نے امید ظاہر کی کہ کہا اس میچ میں سخت محنت سے ہونے والی تھکاوٹ ان کو فائنل میں اچھا کھیل پیش کرنے میں روکاؤٹ نہیں بنے گی۔ اپنے اعزاز کا دفاع کرتے ہوئے عالمی نمبر دو لیٹن ہیوٹ کو سیمی فائنل میں ہرا کر مسلسل تیسری مرتبہ ومبیلڈن کے فائنل میں پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے سیمی فائنل میں ہیوٹ کو 3۔6، 4۔6، 6۔7، (4۔7) سے ہرایا۔ میچ کے بعد فیڈرر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ میں نے یہ اتنے آرام سے کر لیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میں تیسری مرتبہ فائنل میں پہنچنے پر بہت خوش ہوں۔ یہ زبردست ہے۔ یقیناً میں آج رات کو آرام سے سو سکوں گا‘۔ اس سے قبل کھیلے جانے والے اپنے بیس فائنل مقابلے جیتنے والے فیڈرر نے کہا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ اتوار کو میرا ریکارڈ میرے ہاتھ سے نہیں نکلے گا‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||