آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کو ہرا دیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اولڈٹریفورڈ میں کھیلے جانے والے نیٹ ویسٹ سیریز کے ایک میچ میں آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کو دس وکٹوں سے ہرا کر اپنی پچھلی شکست کا بدلہ چکا دیا ہے۔ آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کے ایک سو چالیس رنز کا ٹارگٹ صرف اٹھارہ اعشاریہ پانچ اوروں میں ہی پورا کر لیا۔ آسٹریلیا کے ٹورنامنٹ کے پہلے دو میچ بنگلہ دیش اور انگلینڈ سے ہارنے کے بعد کھیل کے ماہرین یہ سوال اٹھانا شروع ہو گئے تھے کہ کیا آسٹریلیا کا زوال شروع ہو گیا ہے۔ ٹورنامنٹ کے پہلے دونوں میچوں میں آسٹریلیا کے آل رؤنڈر اینڈریوسِمنڈز ڈسلپن کی خلاف ورزی کی وجہ سے نہیں کھیل سکے تھے جبکہ پچھلے دونوں میچوں فاسٹ بولر بریٹ لی اور اینڈریوسِمنڈز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتح کے راستے پر گامزن کر دیا ہے۔ آسٹریلیا کے اوپنر ایڈم گلکرسٹ اور میتھو ہیڈن نے بالترتیب چھیاسٹھ رنز سکور کیے۔ اس سے پہلے بنگلہ دیش کی ٹیم نے اینڈریوسِمنڈز اور بریڈ ہوگ کی شاندار بولنگ کا مقابلہ نہ کر سکی اور صرف ایک سو انتالیس رنز سکور کر کے آؤٹ ہو گئی۔ آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر بنگلہ دیش کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی تو ابتدا میں ہی بریٹ لی نے جاوید عمر اور تشار عمران کو آؤٹ کر کے اسے مشکلات میں ڈال دیا۔ اس وقت بنگلہ دیش کا سکور تیرہ رن تھا۔ اس کے بعد محمد اشرفل اور شہریار نفیس نے اپنی ٹیم کو سہارا دیا اور تیسری وکٹ کے لیے نوے رن کی پارٹنر شپ قائم کی۔ اس موقع پر شہریار نفیس سنتالیس رن بنا کرسِمنڈز کا شکار بنے۔ کپتان حبیب البشر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد کوئی بھی بلے باز محمد اشرفل کا ساتھ نہ دے سکا اور بنگلہ دیش کی پوری ٹیم پینتیس اعشاریہ دو اوورز میں ایک سو انتالیس رن بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ سِمنڈز نے اپنے کیرئیر کی بہترین بالنگ کرتے ہوئے اٹھارہ رن کے عوض پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ ہوگ نے تین جبکہ بریٹ لی نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||