آسٹریلیا: شکست کا سلسلہ طویل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برسٹل میں ہونے والے نیٹ ویسٹ ٹرافی کے دوسرے ایک روزہ میچ میں آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کو مسلسل دوسری شکست کا سامنا کرنا پڑا جب انگلینڈ کے بلے باز پیٹرسن نےپینسٹھ گیندوں پر اکانوے رن بنا کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کر دیا۔ پیٹرسن ایک ایسے وقت کھیلنے آئے تھے جب میچ انگلینڈ کے ہاتھوں سے نکلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ پیٹرسن کسی آسٹریلوی بولر کا خاطر میں نہیں لائے۔ انہوں نے اپنی اننگز میں چار چھکے اور آٹھ چوکے لگائے اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ پیٹرسن کی اننگز کی وجہ سے انگلینڈ نے 252 کا ہدف صرف 47.3 اوور میں ہی حاصل کر لیا۔
انگلینڈ کی اننگز کے آغاز میں آسٹریلیوی بالر میگرا اور گلسپی دونوں ہی اپنے روائتی معیار کی بالنگ نہیں کر پا رہے تھے۔ ٹریسکوتھک اور سٹراس پر اعتماد نظر آ رہے تھے۔ لیکن میچ کے آٹھویں اوور میں میگرا نے بلے کے نیچے گیند پھینک کر ٹریسکوتھک کو بولڈ کر دیا وہ صرف سولہ رن بنا پائے۔ اگلے اوور میں میگرا نے انگلینڈ کے دوسرے اوپنگ بلے باز سٹراس کو بھی بولڈ کر دیا۔ سٹراس بھی صرف سولہ رن بنائے پائے۔ کپتان مائیکل وان اور اینڈریو فلنٹاف نے انگلینڈ کی اننگز سنبھالی لیکن فلنٹاف صرف انیس رن بنانے کے بعد کیچ آؤٹ ہو گیا۔ فلنٹاف کا ایک مشکل کیچ کیسپروچ نے شاندار انداز میں لے کر انہیں پویلین کی راہ دکھائی۔ کپتان وان نے مشکل حالات میں نصف سنچری مکمل کی۔ انہوں نے یہ نصف سنچری اٹھاسی گیندوں پر بنائی۔ مگر وہ ستاون رن بنانے کے بعد ہاگ کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اس کے بعد انگلینڈ کے کھلاڑی جونز صرف دو رن بنانے کے بعد باونڈری پر کیچ آوٹ ہو گئے۔ آسٹریلیا کی طرف سے گلسپی سب سے مہنگے بولر ثابت ہوئے۔ انہوں نے دس اوور میں 66 رن دیئے اور کسی کھلاڑی کو آؤٹ نہیں کر سکے۔ آسٹریلیا کی اننگز لیکن بارہویں اوور میں آسٹریلیا شدید مشکلات کا شکار ہوگیا جب ہارمیسن نے اوور کی پہلی چار گیندوں پر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا۔ ہارمیسن نے اس اوور کی پہلی گیند پر گلکسرٹ کو وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کرا دیا۔ اگلی ہی گیند پر کپتان رکی پونٹنگ ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ یہ گیند ہارمیسن نے بلے کے بالکل نیچے پھینکی تھی جو پونٹنگ کے جوتے پر لگی اور وہ ایل بی ڈبلیو قرار پائے۔
اس کے بعد مارٹن کھیلنے آئے لیکن وہ ایک گیند روکنے کے بعد اگلی ہی گیند پر اونچا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں تھرڈ مین کی پوزیشن پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ آسٹریلیا نے پندرہ اوور کے اختتام پر تریسٹھ رن بنائے اور اس کے تین کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ اگلے ہی اوور میں آسٹریلیا کی مشکلات میں اسوقت اضافہ ہو گیا جب ہیڈن بھی ہارمیسن کی ایک گیند پر شاٹ لگاتے ہوئے کیچ آؤٹ ہو گئے۔ ان کا ایک نہایت ہی شاندار کیچ کولنگ وڈ نے ہوا میں جست لگا کر ایک ہاتھ سے لیا اور یوں آسٹریلیا کے تریسٹھ ہی کے سکور پر چار کھلاڑی پولین میں واپس پہنچ گئے۔ اس کے بعد کلارک اور ہسی نے کھیلنا شروع کیا اور محتاط انداز میں کھیلتے ہوئے سکور کو ایک سو اڑسٹھ رن تک پہنچا دیا۔ اسوقت کلارک پینتالیس رن بنا کر بولڈ آؤٹ ہو گئے۔ ہسی اور شین واٹسن نے سکور کو 220 رنز پر پہنچا دیا۔ ہسی 84 رنز بنا کر ہارمیسن کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ شین واٹسن بھی زیادہ دیر تک وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 25 رنز بنا کر فلنٹاف کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔ انگلینڈ کی طرف سے ہارمیسن نے تینتیس رن دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔فلنٹاف نے دو وکٹیں حاصل کئیں جب کہ گف اور لوئس نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ رکی پونٹنگ نے بنگلہ دیش کے خلاف بھی ٹاس جیت کر بیٹنگ کی تھی لیکن بنگلہ دیش کی ٹیم نے زبردست مقابلے کے بعد آسٹریلیا کی ٹیم کو حیران کن طور پر شکست دے دی تھی۔ پونٹنگ نے میچ کے بعد اعتراف کیا کہ شاید انہوں نے وکٹ کوسمجھنے میں غلطی کی تھی اور اسی بنا پر آسٹریلیا کے دو کھلاڑی صرف دس رن پر آؤٹ ہو گئے تھے۔ اس میچ میں ایمپائرنگ کے فرائض علیم ڈار اور جرمی لا ئڈز دے رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||