مائیکل وان کا جیت پر محتاط ردِ عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ کے کپتان مائیکل وان نے آسٹریلیا کے خلاف ٹوینٹی ٹوینٹی کے کرکٹ مقابلے میں شاندار فتح کے بعد کہا ہے کہ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ اس کا اثر آنے والی سیریز پر ہو گا۔ روز باؤل میں ہونے والے میچ میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو سو رنز سے ہرا دیا تھا۔ وان نے کہا کہ ’ٹوینٹی ٹوینٹی کی اپنی پہلی گیم میں میں صرف ایک گیند کھیل سکا، لیکن ٹیم نے بہتر کرکٹ کا مظاہرہ کیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک لاٹری کی طرح ہے۔ آپ کو خوش قسمتی کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم کو یہ مل گئی۔ تماشائی بھی زبردست تھے۔ لیکن میرے خیال میں اس کا اثر پانچ روزہ میچوں پر نہیں ہو گا‘۔ آسٹریلیا کے کپتان رکی پونٹنگ نے انگلینڈ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’انگلینڈ کی ٹیم بہت اچھا کھیلی اور زبردست بولنگ کی، لیکن ہماری طرف سے اچھے کھیل کا مظاہرہ نہیں کیا گیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں معلوم تھا کہ اس طرح کا ٹوٹل حاصل کرنے کے لیے ہٹس لگانی پڑیں گی اور جہاں بھی ہم نے ہٹ لگائی وہ سیدھی فیلڈر کے ہاتھ میں گئی‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک دلچسپ کھیل تھا۔ ’تماشائی اس سے محظوظ ہوئے۔ لیکن اس میں ہمارے لیے کچھ زیادہ مزہ نہیں تھا‘۔
پیر کے روز ہونے والے میچ میں جان لیوس اور ڈیرن گوہ نے انتہائی شاندار بولنگ کی۔ اس سے قبل پال کولنوڈ 46 رنز کی ایک اچھی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے تھے۔ انگلینڈ نے بیس اوورز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 179 رنز بنائے تھے۔ انگلینڈ کی طرف سے کولنوڈ نے 46، ٹریسکوتھک نے 41، اور کیون پیٹرسن نے 34 رنز بنائے تھے۔ اس کے بعد جب آسٹریلیا کی باری آئی تو ایسا ہوا جو گزشتہ کئی سالوں سے آسٹریلیا کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔ صرف سات گیندوں میں آسٹریلیا کے چار بیٹسمین آؤٹ ہو گئے اور صرف 14.3 اوورز میں ساری کی ساری ٹیم 79 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ انگلینڈ کے کپتان مائیکل وان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جونز اور ٹریسکوتھک کو اوپنر بھیجا۔ جونز نے جاتے ہی تیز کھیلنا شروع کر دیا اور کھیل کے آغاز میں ہی چار چوکے لگائے۔ آسٹریلیا کی بیٹنگ کی تباہی کے آغاز کا سہرا فاسٹ بولر ڈیرن گوہ کے سر رہا۔ انہوں نے شروع ہی میں دو گیندوں پر ایڈم گلکرسٹ اور میتھیو ہیڈن کو آؤٹ کر دیا۔ وہ تیسری گیند پر اپنی ہیٹ ٹرک مکمل نہ کر سکے۔ میچ کے بعد انہوں نے کہا کہ ’ہیٹ ٹرک پر میں نے شارٹ گیند کروائی کیونکہ مجھے لگا کہ ہر کوئی سوچ رہا ہو گا کہ میں یارکر کروں گا‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||