BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 April, 2005, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
درمیانے درجے کی بڑی کامیابی

News image
دہلی میں پاکستان کا جھنڈا بلند ہو گیا، مگر فارن آفس کے جس بریف کا لاہور میں بول بالا تھا کہاں کھو گیا۔ جی ہاں، کہا جا رہا تھا کہ کانپور کا چوتھا ون ڈے میچ بھارت جیتے گا اور دہلی میں پاکسان فاتح ہو گا، مگر پاکستان نے دونوں میچ جیت کر اس بریف سے انحراف کیا۔ کہا جا رہا تھا کہ کھیل کی 3-3 برابری بھارت اور پاکستان میں دوستی کے لیے انتہائی ضروری ہے اور یہ کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان امن کی کوششوں کو بڑھاوا ملے گا۔

کچھ لوگ تو یہ کہتے پائے گئے کہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کا کھیل کو 3-3 کی برابری پر محدود رکھنا لازمی ہے۔ مگر ایسا ہوا نہیں۔ پاکستان کے گھس بیٹھیے 2-4 سے جیتے اور بہت اچھا کھیل کر جیتے۔ ایک بار پھر یہ کہنا پڑے گا کہ جیت کا زیادہ تر سہرا پاکستانی کپتان کے سر رہا جو آخری دو میچوں سے پہلے سے یہ کہتےسنائی دیئے کہ ان کی ٹیم صدر مشرف کو ان کی بھارت یاترا کے موقع پر فتح کا تحفہ دیناچاہتے ہیں۔ شاید پاکستانی ٹیم کی بھارت میں موجودگی کا سیاست سے اتنا ہی تعلق تھا، اس سے زیادہ تعلق ہونا بھی نہیں چاہیے۔

کرکٹ کا بہرحال ایک رول رہا ہے پاک۔بھارت تناؤ کو کم کرنے میں۔ سیاست میں کرکٹ کا بیجا الجھاؤ اس تناؤ کو بڑھاتو سکتا ہے مزید کم شاید نہیں کر سکتا۔ کرکٹ ایک ثبوت ہے کہ پاکستان اور بھارت کے لوگ اکٹھے انجوائے کر سکتے ہیں، ایک دوسرے کے نعرے برداشت کر سکتے ہیں، اور میچ کے اختتام پر بغیر لڑے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو سکتے ہیں۔ باقی ان کی حیثیت تو تماشائیوں کی ہے، کھیلنے والے کوئی اور لوگ ہیں جو کبھی کبھار سٹیڈیم میں بھی نظر آجاتے ہیں، مگر رہتے آپ ہم سے فاصلے پر ہیں۔ ہمارے اور ان کے درمیان ابھی بھی دو ملکوں کی سیکیورٹی حائل ہے۔

پاکستان کے بھارتی دورے کے بارے میں تبصرے چلتے رہیں گے۔ پاکستان جس طرح سے کامیابی سے ہمکنار ہوا اس کی یاد عرصے تک لوگوں کے ذہن میں رہے گی۔ وہی لوگ جو دورے کے آغاز میں باب وولمر پر نتائج فراہم نہ کرنے کی تہمت دہر رہے تھے آج ان کی تعریف کرتے سنائی دیتے ہیں۔

وولمر اور انضمام کا سب سے بڑا کانٹریبوشن تو شاید یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان بولروں کے سر سے فاسٹ بولر ہونے کا زعم کسی قدر اتار انہیں کینڈے میں رہ کر کھیلنے کی ترغیب دی۔اس کام میں کچھ وقت تو لگ گیا مگر اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے۔

بھارت کے خلاف پاکستان میں ہونے والی پچھلی سیریز میں پاکستان کے گیند بازوں کی پٹائی کی ایک وجہ شیعب اختر اور محمد سمیع کی حد سے بڑھتی تیز گیند کرنے کی خواہش تھی۔ اس سوچ کے پیچھے پچھلے چند برسوں میں فاسٹ باولنگ کے شعبے میں پاکستان کی شاندار کارکردگی تھی مگر اس حکمت عملی میں موجودہ حالات سے آگاہی کا فقدان تھا۔ یہ بات نہیں کہ شیعب اختر کوئی برے باولر ہیں مگر ان کی تیز رفتاری نے دوسرے پاکستان باولروں کوخواہ مخواہ وہم میں مبتلا کر دیا تھا کہ وہ اس خطے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں تیز رفتاری گویا چند قدم بھاگ کر کریز تک آنے والے کا پیدائشی حق ہے۔ پاکستان کا ہر باولر ایسے بھاگ کر آتا تھا جیسے بلے باز کو چیر کر نکل جائے گا وہ یقیناً ایک خوشگوار منظر تھا، مگر اس کے ساتھ کبھی نہ ختم ہونے کی یا ہمیشہ چلنے کی گارنٹی ہرگز نہ تھی۔

وولمر اور انضمام کی حکمت عملی اور رانا نوید الحسن کی بولنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اچھے باولر ہونے کے لیے لازمی نہیں کہ آپ 100 میل کی رفتار سے گیندیں کریں۔ آپ اس سے کم رفتار باولنگ کر کے بھی اچھے باولر ہو سکتے ہیں۔جی ہاں پاکستان میں بھی۔

پاکستان کی ٹیم میں ایک جینوین فاسٹ کا نہ ہونا تھوڑا تکلیف دہ تو ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی امید رکھنی چاہیے کہ شیعب اختر اپنی ساری دیدہ نادیدہ تکالیف سے چھٹکارا پا کر جلد ٹیم میں واپس آجائیں گے، مگر بھارت میں پاکستان کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہے کہ کھلاڑیوں کے اس گروپ کے لیے جو ایک ٹیم کھلینے کا عزم رکھتے ہے، اکثر دو ایک میڈیم پیسر بھی کافی ہوتے ہیں۔ یہ درمیانے درجے کی بڑی کامیابی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد