چیمپئنز ٹرافی کا طریقۂ کار تبدیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل چیمپئنز ٹرافی کے طریقۂ کار(فارمیٹ) میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے اس تبدیلی کا مقصد اس اہم ایونٹ کے معیار کو بلند رکھنا ہے۔ آئی سی سی کے صدر احسان مانی کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں کھیلی گئی چیمپئنز ٹرافی کے دوران یہ بات محسوس کی گئی کہ اس کے معیار میں کمی آئی ہے لہذا یہ تجویز زیرغور ہے کہ اس میں بارہ کے بجائے آٹھ ٹیموں کو شرکت کی اجازت ہو۔ احسان مانی دہلی میں آئی سی سی کے اجلاس میں شرکت کے بعد کولکتہ میں پاک بھارت ٹیسٹ دیکھنے کے لیے موجود تھے۔ ایڈن گارڈنز کے پریس باکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وہ بولے کہ یہ دیکھا جارہا ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں میزبان کے علاوہ پانچ ٹیموں کا انتخاب آئی سی سی کی عالمی رینکنگ کی بنیاد پر کیا جائے اور بقیہ دو ٹیموں کے لیے چار بچ جانے والی ٹیموں کے درمیان میچز کروا کر دو کو کوالیفائی کرایا جائے۔ احسان مانی کہتے ہیں کہ آئی سی سی نے بھارت کو چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی سے محروم کرنے کی دھمکی نہیں دی ہے انہیں توقع ہے کہ بھارتی حکومت اس ایونٹ کو ٹیکس سے مستثنی قرار دے دے گی۔ پاکستانی آف اسپنر شعیب ملک کے بولنگ ایکشن کے بارے میں احسان مانی نے کہا کہ ان کا معاملہ ایک بار پھر پرتھ یونیورسٹی کے پروفیسر بروس ایلیٹ کے پاس بھیجا گیا ہے کیونکہ وہ مروجہ قوانین کے تحت تھرو کرتے ہیں لیکن آئی سی سی ان کی مدد کررہی ہے تاکہ وہ اپنے بولنگ ایکشن کو درست کرسکیں۔ احسان مانی سے پوچھا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیسٹ کی طرح ون ڈے میں بھی دونوں نیوٹرل امپائرز کی تقرری کی آواز بلند کرچکا ہےتو کیا ایسا ہونے والا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ون ڈے میں بھی دونوں امپائرز نیوٹرل کردینے سے میزبان ملک کے امپائرز کے لیے امپائرنگ کرنے کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔ یہ ایک طویل بحث ہے جو ابھی جاری ہے۔ احسان مانی کا کہنا ہے کہ کھلاڑی چاہتے ہیں کہ امپائر کسی ملک کا ہو اچھا ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ سوچیں اگر سچن کو آؤٹ دینے والا امپائر بھارتی یا پاکستانی ہوتا توکیا ہوتا۔ آئی سی سی کے صدر کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ امپائرز کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ان کے ہر فیصلے کا گزشتہ دو سال سے بغور جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے ایک سری لنکن امپائر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے دینے میں ان سے بہت غلطیاں ہورہی تھیں لہذا انہیں ایلیٹ پینل سے ہٹا کر ڈومیسٹک کرکٹ میں امپائرنگ کے لیے کہا گیا تاکہ وہ اعتماد بحال کرسکیں اور اپنی غلطیاں دور کرسکیں۔ آئی سی سی کے صدر کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اور زمبابوے سے ٹیسٹ رکنیت واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||