شعیب کے لیے پی سی بی کی شرائط | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین شہر یار خان نے فاسٹ بالر شعیب اختر کی فٹنس پر ایک بار پھر شک و شبہ کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان ٹیم کو بھارت جانے کے لیے خدا حافظ کہنے کے لیے پاکستان کرکٹ اکیڈمی آئے ہوئے شہریارخان نے ٹیم کے ہمراہ گروپ تصویر بنوانے کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر شعیب اختر بھارت جانا چاہتے ہیں تو اس کی تین شرائط ہیں۔ ’ایک تو انہیں سو فیصد فٹ ہونا ہوگا۔ دوسری شرط یہ کہ انہیں پی سی بی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت نظم وضبط کی پوری پاپندی کرنا ہوگی۔ تیسری شرط یہ کہ انہیں ٹیم کے سئنیر رکن کی حیثیت سے ٹیم سپرٹ کو کم کرنے کا بجائے ٹیم سپرٹ زیادہ کرنے کی کوشش کرنا ہو گی۔‘ بعد کی دونوں شرطوں کی بارے پی سی بی کے چیئر مین شہر یار خان سے دریافت کیا گیا کہ کیا آپ کوشعیب اختر پر شک ہے کہ کہ وہ اب بھی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے علاوہ ٹیم سپرٹ پر بھی منفی طور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں تو شہر یار خان کا جواب تھا کہ شعیب کے گزشتہ رویے کے سبب انہیں ابھی بھی ان پر شک ہے۔ شہر یار خان نے کہا کہ جب تک وہ یہ ساری شرائط پر پورے نہیں اترتے انہیں ٹیم میں رکھنے کے لیے مد نظر نہیں رکھا جائے گا۔ شہر یار خان نے کہا کہ وہ ایک دو روز میں شعیب سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں اس ساری صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ شعیب اختر ہی کے معاملے میں جب کوچ باب وولمر سے یہ پوچھا گیا کہ کیا فٹ ہونے کی صورت میں شعیب کو ٹیم مینجمنٹ بلانا چاہیے گی تو ان کا جواب اثبات میں نہیں تھا بس اتنا کہا کہ انتظار کریں دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقار یونس کو صرف فوری ضرورت کے تحت بھارت کے دورے کے لیے بالنگ کوچ بنانا چاہتے تھے لیکن وہ زیادہ عرصے کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں زیادہ عرصے کے لیے کوچ رکھنا ہے جو ٹیم کے ساتھ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بھی کھلاڑیوں پر کام کرے تو اس کا فیصلہ بہت سوچ بچار کے بعد کیا جائے گا کیونکہ اور بھی کئی نام ہیں حیسے وسیم اکرم مدثر نذر وغیرہ انہیں بھی مد نظر رکھا جائے گا۔ شعیب ملک کے بالنگ ایکشن پر انہوں نے کہا کہ ہم نے آئی سی سی کو درخواست کی ہے کہ اس پر جلد فیصلہ کر دیں لیکن ابھی کوئی جواب نہیں دیا۔ ٹیم کوبھارت روانہ کرتے ہوئے کیا انہیں بحثیت پی سی بی کے سربراہ انہیں حفاظت کے نقطہء نظر سے کوئی تشویش ہے تو ان کا جواب تھا کہ انہیں یقین ہے کہ بھارتی حکومت پاکستان ٹیم کی پوری حفاظت کرے گی اور انہیں اس سلسلے میں کوئی پریشانی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیریز کھیلنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور اگلے سال جنوری مین بھارت کی ٹیم پاکستان آئے گی اور یہ خوش آئند بات ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||