سری لنکا کا دورہ نیوزی لینڈ منسوخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکن کرکٹ ٹیم نے سونامی لہروں سے سری لنکا میں ہونے والی تباہی کے بعد اپنا دورہ نیوزی لینڈ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دورے میں ابھی تک سری لنکن ٹیم نےایک میچ ہی کھیلا تھا۔ ابتداء میں اس دورے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کردیا گیا تھا۔ لیکن بدھ کو سری لنکن ٹیم نے اپنا دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سری لنکا کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ سری لنکن کھلاڑی ہر اچھے اور برے وقت میں اپنی قوم کے ساتھ ہیں۔اس دورے کی منسوخی سے کھلاڑیوں نے متاثرین کو امداد کی فراہمی میں کرکٹ بورڈ کی مدد کی ہے‘۔ آئی سی سی کے سربراہ میلکم سپیڈ کا کہنا ہے کہ’ ہم اس فیصلے کو سمجھتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’سری لنکا پر سونامی کا اثر تباہ کن ہے۔ ان حالات میں جب ہمارے ممبران اس سیریز کو ملتوی کرنے پر رضامند ہیں، جرمانے اور ہرجانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا‘۔ میلکم سپیڈ نے یہ بھی بتایا کہ ’اب سری لنکن کھلاڑی اپنے خاندان والوں کے پاس لوٹ جائیں گے اور یہ سیریز مستقبل قریب میں دوبارہ کھیلی جائے گی‘۔ پانچ ایک روزہ اور دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل اس سیریز کا انعقاد اب مستقبل میں دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈوں کی باہمی رضامندی سے ہو گا۔ سونامی لہروں کی تباہی سے سری لنکا میں قریباً بائیس ہزار افراد موت کے گھاٹ اتر گئے ہیں۔ اس تباہی میں اگرچہ کسی بھی سری لنکن کھلاڑی کے گھر والوں کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے البتہ اطلاعات کے مطابق جے سوریا اور اپل چندانا کی مائیں زخمی ہوئی ہیں۔ سری لنکا کے شہرت یافتہ سپن بولر مرلی دھرن البتہ اس طوفان کا شکار ہونے سے بال بال بچے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ میں نے گالے چھوڑا ہی تھا کہ لہر آئی۔ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ زندہ ہوں‘۔ مرلی دھرن اس دورے پر ٹیم کے ہمراہ نہیں جا سکے تھے۔ نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو مارٹن سنیڈن نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اب ہم سری لنکن کھلاڑیوں کو جلد از جلد ان کے وطن پہنچانے کی کوشش کریں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ سری لنکا کے موجودہ حالات میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کا نیوزی لینڈ میں رہنا بہت مشکل تھا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||